اسرائیل میں کرائے گئے جائزے کے مطابق اگر آج انتخاب ہوئے تو حزب اختلاف حکومت بنانے کا اہل ہوگا، اس نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پارٹی پر اپنی برتری برقرار رکھی ہے، یہ سروے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل سامنے آیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 10:10 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل میں کرائے گئے جائزے کے مطابق اگر آج انتخاب ہوئے تو حزب اختلاف حکومت بنانے کا اہل ہوگا، اس نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پارٹی پر اپنی برتری برقرار رکھی ہے، یہ سروے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل سامنے آیا ہے۔
اسرائیل میں شائع ہونے والے ایک سروے میں بتایا گیااگر آج ملک میں انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف حکومت بنانےکی اہلیت رکھتا ہے، جسے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکمران اتحادی جماعت پر برتری حاصلہے۔ یہ سروے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل سامنے آیا ہے۔چینل۱۳؍ کے سروے کے مطابق، ۱۲۰؍ رکنی کنیست (اسرائیلی پارلیمان) میں اپوزیشن بلاک کو۵۵؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو۵۱؍ نشستیں اور عرب جماعتوں کو ۹؍ نشستیں حاصل ہونے کی پیش گوئی کی گئی۔
مزید برآں جائزے میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کا مقابلہ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی پارٹی ’’یاشر‘‘ کے ساتھ برابر رہا، دونوں کو۲۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ جبکہ حکمران اتحاد کی جماعتوں میں، یونائیٹڈ ٹورہ جوڈازم کو ۹؍نشستیں، قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جماعت ’’اوتزما یہودیت‘‘ کو آٹھ، شاس کو سات، اور وزیر خزانہ بیزالیل ا سموتریچ کی ’’ریلیجس صیونیت‘‘ کو چار نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی۔ تاہم اپوزیشن کی طرف، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت ’’ٹوگیدر‘‘ کو۱۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں ایویگڈور لیبرمین کی پارٹی ’’یسریل بیتینو‘‘ کو ۱۰؍اور یائر گولان کی ’’ڈیموکریٹس کو ۹؍ نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے دو طرفہ مقابلے کے سوال پر، آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو ۴۷؍ فیصد کے مقابلے میں۳۶؍ فیصد سے پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ بینیٹ نے بھی وزیراعظم سے۴۵؍ فیصد کے مقابلے میں۴۰؍ فیصد سے برتری حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی فوجیوں سے فون واپس لینے پرغور، ایران ان کی مدد سے حملے کررہا ہے: سینٹ کوم
سروے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ۴۳؍ فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کا حالیہ دورہ امریکہ بنیادی طور پر ان کی انتخابی مہم کو فروغ دینے کے لیے تھا، جبکہ۳۶؍ فیصد نے کہا کہ یہ سیاسی اور سیکیورٹی تحفظات پر مبنی تھا۔جبکہ ۱۴؍ فیصد نے کہا کہ اس دورے کا اصل مقصد امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا۔
واضح رہے کہ یہ سروے انڈیکس،ا سٹیٹ نیٹ، سیمپل اور اسکریا نے۹۵۶؍ جواب دہندگان پر کیا تھا اور اس میں غلطی کا اندارہ ۳؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد ہے۔یہ سروے اس وقت سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل کنیست نے خود کو تحلیل کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس سے اسرائیل میں جاری سیاسی تعطل کے درمیان۲۷؍ اکتوبر کو قبل از وقت عام انتخابات کا راستہ ہموار ہوا۔ بعد ازاں آنے والا انتخاب ۱۹۸۸ء کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی کنیسٹ اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی ، قانونی طور پر مقررہ چار سالہ مدت مکمل کرے گی۔