• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بہار میں بھی حلال مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

Updated: November 24, 2023, 8:48 AM IST | Agency | Patna

گری راج سنگھ کا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو خط، تیجسوی یادو کا سخت جواب، کہا کہ’’ شہریوں کاپیٹ نوکریوں سے بھرے گا، مندر کا گھنٹہ بجانے سے نہیں۔‘‘

Union Minister Giriraj Singh and Bihar Deputy Chief Minister Tejashwi Yadav are having verbal clashes. Photo: INN
مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور بہار کے نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو میں لفظی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ تصویر : آئی این این

اتر پردیش میں حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگ چکی ہے اور اس کی جانچ کے لئے کمیٹی کا قیام بھی عمل میں آگیا ہے ۔  یہ غیر ضروری تنازع اب بہار میں بھی کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر اور مرکزی وزیر گرج راج سنگھ نے اتر پردیش کی طرح ہی بہار میں بھی حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کی فروخت پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے نام لکھے ایک خط میں انہوں نے حلال سرٹیفکیشن اور سماجی طور پر تفریق آمیز اورو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ممکنہ شراکت داری کے درمیان مبینہ رشتوں کے بارے میں فکر کا بھی اظہار کیا ہے۔
حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کے تعلق سے گری راج سنگھ نے زور دے کر کہا ہے کہ اس طرح کا سرٹیفکیشن جس کا اسلامی پیمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، مذہب سے غیر متعلقہ مصنوعات کا اسلامائزیشن کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے اداروں پر حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں خود اتھاریٹی بننے کا الزام بھی عائد کیا۔ خط میں انھوں نے لکھا کہ حلال سرٹیفکیشن اور بزنس کے پیچھے کوئی بڑی سازش ہونے کا اندیشہ بے بنیاد نہیں ہے۔اتر پردیش حکومت کے ذریعہ حلال سرٹیفکیشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گری راج سنگھ نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ریاست میں اسی طرح کا مضبوط قدم اٹھانے کی گزارش کی ہے۔
 گری راج سنگھ جو پہلے ہی مسلم مخالف بیانات کے لئے بدنام ہیں، نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ بہار جیسی بڑی ریاست میں بھی حلال مصنوعات کے نام پر جس طرح کامعاملہ چل رہا ہے، اس پر پابندی لگا کر ایسے تخریب کاروں اور سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اپنے خط میں یوپی حکومت کے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے اور اسے بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بہار حکومت کو بھی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ فرضی سند دینے کا سلسلہ ختم ہو۔ 
 واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت نے حال ہی میں برآمدات کے لئے تیار مصنوعات کو رعایت دیتے ہوئے ڈیری، لباس اور دواؤں سمیت کچھ حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کے ڈسٹری بیوشن اور فروخت پر فوری اثر سے پابندی لگا دی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اس قدم کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ سرٹیفکیشن کا کام صرف حکومتی اداروں کی جانب سے ہونا چاہئے اسے پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپنا ٹھیک نہیں ہے۔حالانکہ اتر پردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ کی گئی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے آواز بھی بلند کر دی ہے۔ جمعیۃ نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ناجائز طریقے سے نہیں کیا جا رہا ہےبلکہ ا ن ا داروں کو حلال سرٹیفکیشن کیلئے حکومت کی اجازت ملی ہوئی ہے۔ 
دوسری طرف یوپی کی طرز کی فرقہ وارانہ سیاست پر مرکزی وزیر گری راج سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے انہیں منہ توڑ جواب دیا ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چا ہئےکہ لوگوں کا پیٹ نوکریاں دینے سے بھرے گا، ترقی کرنے سے بھرے گا۔ مندر مسجد کے تنازعات پیدا کرنے اور مندر میں گھنٹہ بجانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔جب پٹنہ میں صحافیوں نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھنے کے بارے میں پوچھا تو تیجسوی نے کہا کہ یہ لوگ صرف ہندو اور مسلمان کرتے ہیں، ان میں اور ہم میں یہی فرق ہے۔ جب ہم روزگار اور ترقی کی بات کرتے ہیں تو وہ ہندو مسلم، مندر مسجد کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف ہندو مسلم پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ تیجسوی نے یاد دلایا کہ یوپی سے لوگ روزگار کے حصول کے لئے بہار آ رہے ہیںجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کتنی بے روزگاری ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی والے پہلے عوام کو نوکریاں دینے کی بات کریں کیوں کہ اسی کی وجہ سے ان کا پیٹ بھرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK