رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اسمبلی اجلاس کے دوران ہی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کیلئے مکتوب روانہ کیا۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 9:30 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اسمبلی اجلاس کے دوران ہی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کیلئے مکتوب روانہ کیا۔
اتر پردیش، بہار، مغر بی بنگال اور آسام میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی ’ایس آئی آر(اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کرنے کے بعد اب اسے مہاراشٹر اور دیگر ۲۲؍ ریاستوں میں نافذ کیاجارہا ہے۔ اپریل سے ایس آئی آر شروع کیاجارہا ہےاور اس سروے میں زیادہ سے زیادہ ووٹرس کا اندراج ہو سکے اور کسی کو غیر قانونی طریقے سے ووٹر لسٹ سے بے دخل نہ کیا جاسکے اس کیلئے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور بھیونڈی ( ایسٹ) کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اپوزیشن پارٹیوں کومکتوب روانہ کرکے مطالبہ کیاکہ اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران ہی ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی(جے اے سی ) تشکیل دی جائے تاکہ ایس آئی آر کے عمل پر نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایاجاسکے۔
رئیس شیخ نے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، این سی پی ( شرد) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے اور شیو سینا (ادھو) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت کو مکتوب بھیج کر ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کیلئے مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کرنے اور ٹھوس ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک فوری میٹنگ بلانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قوانین میں تبدیلیوں سے آرٹی ای ایڈمیشن کوکم رسپانس مل رہاہے
اس تعلق سے رئیس شیخ نے جمعرات کو نمائندۂ انقلاب کو بتایاکہ ’’ اب تک کئے گئے ایس آئی آر یہ واضح ہو رہا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ اس کی وجہ سے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو بڑا نقصان ہو رہا ہے ۔ اسی لئے ہمیں ابھی سے لائحہ عمل بناتے ہوئے سرگرم ہوجانا چاہئے۔ ‘‘رئیس شیخ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس ایس آئی آر دوران مہاراشٹر میں بھی سنگین بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔ اسی لئے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو مشترکہ محاذ قائم کرتے ہوئے اقلیتی برادریوں، پسماندہ طبقات اور دیگر عام شہریوں کے نام غیر قانونی طور پر ووٹر لسٹ سے نکالے جانے سے روکنا چاہئے۔ ہم نے وہ خط اسی مقصد کے تحت لکھا ہے تاکہ ابھی سے سبھی سرگرم ہو جائیں۔