امیر ترین افراد پر دولت ٹیکس لگایا جائے، کروڑ پتیوں کا مطالبہ

Updated: January 21, 2022, 12:03 PM IST | Agency | New York

؍ ۹؍ممالک سے تعلق رکھنےوالے ۱۰۰؍سے زائد کروڑ پتیوں نے کہا کہ اس قدم سے دنیا بھر میں انسانی فلاح کیلئے سالانہ ڈھائی ٹریلین ڈالر جمع کئےجا سکتے ہیں

There have been demonstrations around the world to raise taxes on the richest people.Picture:INN
امیر ترین افراد پر ٹیکس میں اضافہ کرنے کیلئے پوری دنیا میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

     کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کے  معاشی حالات دگرگوں ہونے کی وجہ سے غریبوں اور انتہائی غریب افراد کی تعداد میں اضافہ نے  ۹؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے سو سے زائد کروڑ پتیوں کو  تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے اپنی اپنی حکومتوں کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ امیر ترین افرادپر دولت(ویلتھ) ٹیکس لگایا جائے۔  ان کروڑ پتیوں کے گروپ کے مطابق اس ایک قدم سے دنیا بھر میں انسانی فلاح کے  لئے سالانہ ڈھائی ٹریلین ڈالر سے زائد جمع  کئے جا سکتے ہیں۔مختلف براعظموں کے سو سے زائد کروڑ پتی افراد کے اس مطالبے کی کئی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی حمایت کی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق ان بہت امیر باشندوں کی `محب وطن کروڑ پتی‘، `انسانیت کے حامی کروڑ پتی‘ اور `مجھ پر ابھی ٹیکس لگائیے‘ نامی تنظیموں پر مشتمل گروپ کا مختلف ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ ’’ہم امراء پر ٹیکس لگائیے، ابھی اور اسی وقت تاکہ انسانی فلاح کے کچھ کام ہو سکیں۔ ‘‘مختلف بحران زدہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والی تنظیم آکس فیم نے کہا کہ اس نئے دولت ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے امراء اور غرباء کے درمیان بڑھتے جارہے  فرق کو کسی حد تک کم کیا جا سکے گا ۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر غربت کے خلاف جنگ جیتی جا سکے گی اور دنیا بھر میں صحت عامہ اور تعلیم جیسی بنیادوں سہولتوں کے لیے بہت زیادہ اضافی وسائل بھی دستیاب ہو سکیں گے۔بہت امیر انسانوں کی نمائندہ تنظیموں کے اس گروپ میں شامل’محب وطن کروڑپتی ‘ نامی ایک تنظیم کی طرف سے ایک کھلا خط سوئزرلینڈ کے شہر داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر `داووس ایجنڈا‘ کی  مناسبت سے جاری کیا گیا ہے۔   اس خط پر دستخط کرنے والے امراء میں امریکی فلم پروڈیوسر اور ڈزنی خاندان کی وارث ایبی گیل ڈزنی، ڈنمارک کی ایرانی نژاد ارب پتی کاروباری شخصیت جعفر شالچی، امریکی بزنس مین نک ہاناؤر اور آسٹریا کی طالبہ مارلینے اینگل ہورن بھی شامل ہیں، جو اربوں یورو کا کاروبار کرنے والے بہت بڑے جرمن کیمیکلز اور صنعتی گروپ بی اے ایس ایف کے وارثین میں سے ایک ہیں۔آکس فیم نے ان ۱۰۰؍سے زائد امراء کے مطالبے کی حمایت میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر دنیا بھر کے کروڑ پتی  افراد پر سالانہ دو فیصد کی شرح سے اور ارب پتی  افراد پر پانچ فیصد کی شرح سے نیا  ویلتھ ٹیکس لگا دیا جائے، تو ہر سال ۵۲ء۲؍ٹریلین ڈالرس جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ رقم ۲۵۲۰؍ بلین ڈالر بنتی ہے جو دنیا کے بہت سے غریبوں کی فلاح کے لئے کام آسکتی ہے۔   اپنے اس کھلے خط میں ان امراء نے لکھا ہے کہ عالمی سطح پر ارب پتی اور کروڑ پتی شخصیات کی دولت پر یہ نیا ٹیکس اس  لئے ضروری ہےکیونکہ ارب پتی اور کروڑ پتی انسانوں کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ موجودہ ٹیکس نظام منصفانہ نہیں ہے۔اس خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ہم میں سے اکثر یہ کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا نے اگر کورونا وائرس کی وبا کے باعث بے تحاشہ مصائب اور تکالیف کا سامنا کیا، تو اسی وبا کے عرصے میں ہماری دولت میں دراصل صرف اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہم میں سے بمشکل صرف چند ایک ہی شاید ایمانداری سے یہ دعویٰ کر سکیں کہ ہم نے اپنی دولت پر اپنے حصے کے پورے ٹیکس ادا  کئے ہیں۔ اسی لئے ہمارا مطالبہ  ہے کہ ویلتھ ٹیکس لگایا جائے اورجو رقم حاصل ہو گی اسے انسانی فلاح کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس کی مدد سے ہم امیر غریب کے درمیان بڑھتی خلیج کو کسی حد تک کم کرسکیں گے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK