Inquilab Logo Happiest Places to Work

مردم شماری پرمامور عملہ کیلئے پولیس تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

Updated: June 06, 2026, 9:35 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

مردم شماری کی ڈیوٹی کرنےوالوںکےساتھ کی جانےوالی بدتمیزی ، بدکلامی، دھکا مکی اور گالم گلوچ کی متعدد شکایتوں کے سامنے آنے کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا

A teacher is seen busy with the census
ایک ٹیچر مردم شماری میں مصروف نظر آرہی ہے ( تصویر:انقلاب)

مردم شماری کی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں سے کی جانے والی بدتمیزی ، بداخلاقی، دھکا مکی، گالم گلوچ اور کتے وغیرہ سے ڈرانے کی متعدد شکایتوں کے سامنے آنے پر تعلیمی تنظیموں نے حکومت سے ڈیوٹی دینے والوںکو پولیس تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس دوران ناگپور میں ایک ٹیچر کے ساتھ بحث و تکرار کے بعد انہیں دی جانے والی دھمکی اور گالم گلوچ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے ۔
 مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک پریشد کے ریاستی صدراور اساتذہ اسمبلی حلقے کے سابق رکن ناگوگانار نے اس تعلق سے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں مردم شماری کی ڈیوٹی پر مامور اساتذہ اور دیگر اہلکاروں کیلئے پولیس پروٹیکشن کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
 انہوں نے انقلاب کو بتایا کہ ’’انتہائی ناقابل برداشت درجہ حرارت کے باوجود تدریسی اور غیر تدریسی عملہ مردم شماری کا کام پوری لگن اور جانفشانی سے کر رہاہے لیکن انہیں حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے قومی کام کیلئے ضروری سہولتیں اور رعایتیں فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔ کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ ۲؍جون ۲۰۲۶ءکو ناگپور کے سکردرا پولیس اسٹیشن کے علاقے میں مردم شماری کرنے والے ایک اُستاد کے ساتھ بڑی بدسلوکی کی گئی۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں،ان سے گالم گلوچ کی گئی اور افراتفری پھیلا کر مردم شماری کا کام کرنے سے روکا گیا۔ اس سلسلے میں مردم شماری کے متعلقہ ٹیچر نے ناگپور کے سکردرا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے ۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایسے واقعات دیگر مقامات پربھی رونما ہو رہے ہیں۔سرکاری عملہ کوگالیاں، دھمکیاں ،ان پر گھر میں بندھے کتے چھوڑے جانے کےعلاوہ، ان کی تضحیک کی جا رہی ہے ۔ا ن کے ساتھ دھکامکی بھی کی جا رہی ہے ۔یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت اور انتظامیہ ان سنگین خبروں کا نوٹس نہیں لے رہے ہیں۔‘‘
 انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ان سرکاری عملہ کو تحفظ فراہم کرنا انتظامیہ کا اخلاقی اور قانونی فرض ہے ۔ مردم شماری کروانے والی حکومت اور انتظامی نظام کی قانونی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ انہیں قانونی مدد فراہم کرے اور بدسلوکی کرنے، دھمکیاں دینے، گھر میں بندھے کتے کو چھوڑنے اور دھکا مکی کرنے والوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرے اور مذکورہ عملہ کو پولیس کےمعرفت تحفظ فراہم کرے ۔‘‘
 مردم شماری کی ڈیوٹی کیلئے روزانہ پال گھر سے اندھیری آنے والے ایک ٹیچر نے بتایا کہ ’’اوشیوارہ کے علاقوں کی پاش سوسائٹیوں میں بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ یہاں کے متعدد مکینوں نے کُتے پال رکھے ہیں ، وہ نئے انسان کو دیکھ کر بھونکنے لگتے ہیں ۔ مکینوں نے انہیں باندھ کر بھی نہیں رکھا ہے جس کی وجہ سے بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ میں ایک سوسائٹی کی تیسری منزل پرگیا تھا ۔ کتے نے مجھے دیکھتے ہی بھونکنا شروع کر دیا ۔وہا ں سے نہ ہٹنے کی صورت میں اس نے مجھ پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ اگر خود کو نہ بچایا ہو تا تو زخمی ہونا یقینی تھا۔ بالآخر یہاں سے مجھے کام کئے بغیر لوٹناپڑا۔ بعدازیں سوسائٹی کے کچھ لوگوں کی مدد سے مجھے کام مکمل کرنے میں کامیابی ملی ۔‘‘
 انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’اسی طرح ایک سوسائٹی میں ایک خاتون نے میری بڑی بے عزتی کی ۔ شناختی کارڈ، پرمیشن لیٹر اور دیگر سرکاری دستاویزات دکھانے کے باوجود اس نے کہاکہ تم یہاں کیسے آئے ،تمہیں آنے کی اجازت کس نے دی ،جائو یہاں مجھے مردم شماری نہیں کروانی ہے ۔ اس کی شکایت میں نے اپنے سپروائزر سے کی۔ سپروائزر نے کسی طرح اس خاتون کا موبائل نمبر حاصل کر کےاس سے بات کی ،اسے خوب ڈانٹا اور کہا کہ تم سرکاری کام میں مداخلت کر رہی ہو ، تمہیں وجہ بتائو نوٹس دی جاسکتی ہے ۔ نوٹس کا تمہیں جواب دینا ہوگا ۔ سپروائزر کے ڈانٹنے کےبعد اس خاتون نے مجھے معلومات فراہم کیں۔ اسی طرح متعدد مقامات پر لوگ تعاون نہیں کر رہے ہیں ۔ انہیں مردم شماری کے عمل میں دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ سامنے سے کہہ رہے ہیں کہ لکھ دیں کہ گھر بند تھا ۔ لوگوں میں مردم شماری سے متعلق بیداری نہ ہونے سے بڑی دقت آ رہی ہے ۔‘‘   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK