Updated: August 12, 2026, 10:22 PM IST
| Kolkata
کولکاتا میں جمیعت علمائے ہند نے احتجاجی مارچ کرکے حذف شدہ رائے دہندگان کے ناموں کی بحالی کا مطالبہ کیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ رائے دہندگان کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے سے متاثرہ افراد کو مختلف سرکاری اور انتظامی خدمات، بشمول پاسپورٹ سے متعلق خدمات اور تعلیمی مواقع تک رسائی میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کے کولکاتا احتجاجی مارچ کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
منگل کو جمعیت علمائے ہند نے کولکاتا میں ایک احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا، جس میں مغربی بنگال کی انتخابی فہرستوں سے خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل کے بعد مبینہ طور پر خارج ہونے والے تقریباً ۲۷؍لاکھ رائے دہندگان کے ناموں کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مارچ جمعیت کے مغربی بنگال کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری کی قیادت میں راجابازار علاقے سے شروع ہو کر مولالی کی طرف بڑھا۔ اس مظاہرے میں مذہبی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیم کے اراکین و حامیوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کے احاطے میں این ڈی اے اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے
مظاہرین کا کہنا تھا کہ رائے دہندگان کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے سے متاثرہ افراد کو مختلف سرکاری اور انتظامی خدمات، بشمول پاسپورٹ سے متعلق خدمات اور تعلیمی مواقع تک رسائی میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خارج شدہ رائے دہندگان کے معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے اور عمل تیز کرنے کے لیے ہر ضلع میں ٹریبونلز قائم کیے جائیں۔اس مظاہرے میں مفتی عبدالسلام، مفتی ابراہیم قاسمی، مولانا بدرالعلام، مولانا عبدالصمد اور مفتی میدول اسلام کے علاوہ دیگر جمعیت رہنماؤں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبدالسلام نے کہا کہ SIR عمل کے بعد انتخابی فہرستوں سے۲۷؍ لاکھ سے زائد نام خارج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کے نام یا تو خارج کر دیے گئے ہیں یا’’زیر غور‘‘رہ گئے ہیں، نیز جن کے مقدمات ٹریبونل میں زیر التوا ہیں، ان میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خودکشی، دخترکشی، نشہ کیخلاف وحدتِ اسلامی ہند کی ملک گیر مہم
اس کے علاوہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ بے یقینی لوگوں کے مختلف سرکاری محکموں اور انتظامی محکمہ سے معاملات کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام ضلعی سطح پر ایسے معاملات کے فوری تصفیہ کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار قائم کریں۔