معروف اداکار پرکاش راج نے ایک بیان میں کہا کہ کیا اب مجھے اپنے ووٹ کے حق کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی؟، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک ایس آئی آر کی جلد بازی پر بھی سوال اٹھائے، اور کہا کہ ایس آئی آرضروری ہے، مگر عمل غلط ہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 10:20 PM IST | Bengaluru
معروف اداکار پرکاش راج نے ایک بیان میں کہا کہ کیا اب مجھے اپنے ووٹ کے حق کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی؟، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک ایس آئی آر کی جلد بازی پر بھی سوال اٹھائے، اور کہا کہ ایس آئی آرضروری ہے، مگر عمل غلط ہے۔
معروف اداکار پرکاش راج نے ایک بیان میں کہا کہ کیا اب مجھے اپنے ووٹ کے حق کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی؟، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک ایس آئی آر کی جلد بازی پر بھی سوال اٹھائے، اور کہا کہ ایس آئی آرضروری ہے، مگر عمل غلط ہے۔یہ بات اداکار پرکاش راج نے دی ٹیلی گراف آن لائن کو بتائی، جو سنگھ پریوار اور مرکزی وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کے سب سے سخت تنقید کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل نے ان کے ووٹر ہونے کے وقار پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے اور وہ نئے ووٹر کے طور پر اندراج کے لیے قطار میں نہیں کھڑے ہوں گے۔انہوں نے منگل کی دوپہر بنگلور سے دی ٹیلی گراف آن لائن کو بتایا، ’’وہ میرے ووٹ کے وقار کو سوالیہ نشان بنا رہے ہیں۔‘‘ہر پانچ سال بعد وہ ہمارے پاس ووٹ مانگنے آتے ہیں اور اب مجھے اپنے ووٹ کے حق کے لیے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ وہ ہمیں قطاروں میں کھڑے ہونے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ کیا ڈرامہ چل رہا ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: رانچی : اے بی وی پی کے۱۱۰؍ کارکن گرفتار، احتجاج میں تشدد کا الزام
بعد ازاں راج نے کہا، ’’میں عدالت جاؤں گا۔ آپ میرا ووٹ نہیں چھین سکتے۔ بطور شہری، ووٹ دینا میرا واحد حق ہے۔ انہیں کس نے یہ حق دیا کہ وہ پورے ملک کو اس طرح کی مشکلات میں ڈال دیں؟‘‘سنگھ پریوار اور مرکزی وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کے سخت ترین نقادوں میں سے ایک راج کا نام کرناٹک میں جاری SIR عمل کے دوران بنگلور سینٹرل کے شانتی نگر حلقہ سے ’’مستقل منتقل‘‘ کے طور پر ASDDO (غیر حاضر، منتقل، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ اور دیگر) کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ جبکہ ۲۰۱۹ء میں، راج نے اسی حلقہ سے لوک سبھا الیکشن بطور آزاد امیدوار لڑا تھا۔بنگلور سینٹرل سٹی کارپوریشن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ اداکار کا نام ’’منتقل‘‘ نشان زد کیا گیا کیونکہ گھر کی تصدیق سے پتہ چلا کہ وہ اب اس اپارٹمنٹ میں نہیں رہتے۔بیان میں کہا گیا، ’’بی ایل او نے پڑوسیوں اور پراپرٹی مینیجر سے سرکاری انکوائری کی۔ فلیٹ کے مالک نے موبائل کال کے ذریعے بھی تصدیق کی کہ اداکار پرکاش راج گزشتہ چار سالوں سے مذکورہ فلیٹ میں مقیم نہیں ہیں اور فی الحال وہاں دوسرے کرایہ دار رہائش پذیر ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت دپکے کی اب دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کی ملک گیر مہم
ریں اثناء ادارے نے بیان میں کہا کہ کمشنر اور اضافی ضلعی الیکشن افسر (سینٹرل) جگدیش جی نے اداکار سے فون پر بات کی۔اداکار نے تصدیق کی کہ وہ مذکورہ پتے پر نہیں بلکہ شانتی نگر اسمبلی حلقہ میں ایک مختلف پتے پر رہائش پذیر ہیں۔ بعد ازاں، بی ایل او کے ذریعے فارم ۶؍کو موجودہ رہائشی پتے پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے کہ پرکاش راج کے الزامات کی تصدیق کر لی گئی اور وہ درست نہیں پائے گئے۔جبکہ راج سے سوال کیا کہ انہیں فارم ۶؍ کیوں بھرنے کہا جارہا ہے۔حالانکہ فارم۶؍ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے ہے اور فارم ۸؍ ان ووٹروں کے لیے ہے جو اپنا پتہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ راج نے پوچھا،’’میں نیا ووٹر کارڈ کیوں حاصل کروں؟‘‘اگر کوئی ووٹر منتقل ہوا ہے تو پوچھیں کہ وہ کہاں منتقل ہوا ہے، اسے متعلقہ دستاویزات دکھانے کو کہیں اور انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کریں۔ انہیں کس نے حق دیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ووٹروں کے نام حذف کریں؟
واضح رہے کہ کرناٹک میں گھر کی تصدیق کی آخری تاریخ پہلے ہی دو بار بڑھائی جا چکی ہے۔جبکہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ۲۴؍ اگست کو شائع ہونے کی امید ہے اور حتمی فہرستیں۲۷؍ اکتوبر کو جاری ہوں گی۔راج نے واضح کیا کہ وہ SIR مشق کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر ضروری ہے مگر عمل غلط ہے۔ اس کام کو مکمل کرنے میں کم از کم۱۸؍ ماہ لگیں گے۔ اسے تین مہینوں میں مکمل کرنے کی یہ جلد بازی کیوں؟ اس وقت کوئی انتخابات طے نہیں ہیں۔ وقت لیں۔ تمام سرکاری افسران بی ایل اوکے طور پر کام کر رہے ہیں اور دوسرے کام متاثر ہو رہے ہیں۔ روزانہ مزدور دستاویزات تلاش کرنے میں بھاگ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسام میں تین کروڑ سے زائد شہری شناختی کارڈ سے محروم
اس کے علاوہ پرکاش راج نے بی ایل او کی خودکشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھاکہ ان خودکشیوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ساتھ ہی راج نے پوچھا،’’ اگر میں فارم ان کے کہنے کے مطابق جمع نہیں کروں تو کیا وہ مجھ سے ٹیکس وصول کرنا بند کر دیں گے؟ میں نے ان تمام سالوں میں ووٹ دیا ہے۔ میں نے ۲۰۱۹ءمیں اسی سیٹ (بنگلور سینٹرل) سے لوک سبھا الیکشن لڑا تھا۔ میں نے SIR پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھا ہے۔ مجھے فارموں کے بارے میں معلوم ہے۔ میرے سوالات ہیں اور میں جوابات چاہتا ہوں۔میںSIR کےعمل پرایک مکالمہ شروع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘