ویزویلا نے ۱۷؍ سال بعد اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات بحال کرلیے، ویزویلا نے ۲۰۰۸ء میں یہ تعلقات اسرائیل کے غزہ پر حملے کے نتیجے میں منقطع کرلئے تھے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 10:21 PM IST | Caracas
ویزویلا نے ۱۷؍ سال بعد اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات بحال کرلیے، ویزویلا نے ۲۰۰۸ء میں یہ تعلقات اسرائیل کے غزہ پر حملے کے نتیجے میں منقطع کرلئے تھے۔
ویزویلا نے ۱۷؍ سال بعد اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات بحال کرلیے، ویزویلا نے ۲۰۰۸ء میں یہ تعلقات اسرائیل کے غزہ پر حملے کے نتیجے میں منقطع کرلئے تھے۔کراکس کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کولمبیا کی نئی دائیں بازو کی حکومت نے ایک دن قبل ہی اسرائیل کے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر قبضے کو تسلیم کیا، جسے دمشق نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ یہ اقدام امریکہ کے ذریعے جنوری میں فوجی حملے کے دوران وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے بعد آیا ہے، جبکہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اب ملک چلا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ہٹ دھرمی، ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پرعمل
بعد ازں اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا، ’’حال ہی کے ہفتوں اور دنوں میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون سعار اور وینزویلا کے وزیرِ خارجہ فیلکس پلاسینسیا کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد، اسرائیل اور وینزویلا نے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا، ’’ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک ہم آہنگی کا طریقہ کار قائم کرنے کا معاہدہ ہوا جو دونوں ممالک کے شہریوں کو سفارتی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔‘‘ ساتھ ہی کہا کہ دونوں ممالک ۲۰۰۹ءسے سفارتی تعلقات برقرار نہیں رکھتے تھے۔‘‘جبکہ وینزویلا نے بولیویا کے ساتھ مل کر جنوری۲۰۰۹ء میں اسرائیل کے غزہ پر حملے کے چند دن بعد سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ منگل کو اسرائیل اور وینزویلا کی حکومتوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے دوہرے زلزلے کے بعد ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو کی کوششوں سے پیدا ہونے والی اپنے دو طرفہ تکنیکی تعاون کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۲۱۳؍ ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ
علاوہ ازیں پیر کو وینزویلا نے زلزلوں سے ہلاکتوں کی تعداد کو اپ ڈیٹ کیا، جس میں اموات کی تعداد ۶۳۰۱؍بتائی گئی، کیونکہ ریسکیو ٹیمیں اور خاندان کے افراد مزید متاثرین کی تلاش میں ملبے کو چھان رہے تھے۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہمسایہ ملک کولمبیا نے اسرائیل کے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر خودمختاری کے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے، اور وہ امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے جو۱۹۸۱ء میں اسرائیل کے شامی علاقے کے غیر قانونی الحاق کو تسلیم کرتا ہے۔جبکہ اقوامِ متحدہ اس خطے کو شام کا حصہ تسلیم کرتی ہے، اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی قبضے کو ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔اس وقت کے صدر گستاو پیٹرو کی حکومت کے تحت کولمبیا نے مئی۲۰۲۴ء میں مہینوں کی کشیدگی کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے، پیٹرو نے کہا تھا کہ وہ ایک نسل کش حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتے۔ساتھ ہی کولمبیا نے جنوبی افریقہ کی طرف سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں بھی مداخلت کی تھی، جسے کی دوسرے ممالک نے بھی حمایت کی تھی۔