جلوس عید میلادالنبی نکالنے کی اجازت دینے کا حکومت سے مطالبہ

Updated: October 16, 2020, 11:12 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ایک وفد نے وزیر داخلہ سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی اور مطالبات پر مبنی میمورنڈم دیا

MH Home Minister - Pic : Inquilab
وزیرداخلہ کو میمورنڈم سونپتے ہوئے وفدکے شرکاء ۔(تصویر:انقلاب

 آل انڈیا خلافت کمیٹی کے زیر اہتمام  ۱۰۱؍ سال سے نکالے جانے والے تاریخی جلوس عید میلادالنبی کی روایت کو برقرار رکھنے اور حکومت سے اجازت حاصل کرنےکے لئے ریاستی وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سے ان کی رہائش گاہ پر بدھ کی شب میں ۹؍ بجے ملاقات کی۔ امسال کووِڈ۱۹؍ سے پیدا شدہ حالات کے سبب جلوس نکالنے کے تعلق سے حکومت کی گائیڈ لائن کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ حکومت نے کن چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجازت دی ہے یا حکومت کی جانب سے کوئی اور فیصلہ کیا  جاتا ہے۔ اس کا انحصار حکومت کی گائیڈ لائن پر ہوگا۔
  وفد نے وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران انہیں جو میمورنڈم دیا ہے اس میں اہم مطالبات کے ساتھ حکومت کو اپنی جانب سے کچھ یقین دہانی بھی کروائی ہے ۔جیسے جلوس میں شریک ہونے والوں سے کہا جائے گا کہ وہ لازمی طورپر ماسک پہنیں اور ایک ٹرک میں۱۰؍ لوگوں کے ہی بیٹھنے کی اجازت ہوگی اور   جلوس کے ساتھ چلنے، ٹرکوں میں بیٹھنے یا دیگر چیزوں میں سماجی فاصلہ بہرحال قائم رکھا جائے گا۔اسی طرح مطالبات میں جو اہم چیزیں شامل کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ جلوس اپنے سابقہ راستوں سے ہی گزارا جائے، اسٹیج بنانے اور استقبال کے لئے جلوس کے راستوں میں جو نظم کیا جاتا ہے وہ حسب سابق قائم رکھا جائے اور خلافت ہاؤس میں جلوس برآمد ہونے سے قبل استقبالیہ پروگرام کی انعقاد کی اجازت دی جائے۔  وزیر داخلہ نے مطالبات اور یقین دہانی سننے اور جلوس کی تاریخی اہمیت کو جاننے اور سمجھنے کے بعد شرکاء وفد کو حتمی طور پر کوئی یقین دہانی نہیں کروائی بلکہ یہ میمورنڈم ممبئی پولیس کمشنر کو بھیجوا دیا اور وہ خود بھی اس تعلق سے ان سے بات چیت کریں گے تاکہ وضاحت کیساتھ پوری بات سامنے آسکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس تعلق سے پولیس کمشنر سے بھی ملاقات کی جائے گی تاکہ ان کے سامنے بھی یہ باتیں رکھی جاسکیں۔
   وزیر داخلہ سے ملنے گئے وفد میں اقبال میمن آفیسر، امین پٹیل، مولانا عبدالجبار ماہر القادری، سرفراز آرزو، محمد علی وغیرہ موجود تھے۔  آل انڈیا خلافت کمیٹی کی جانب سے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ مشروط ہی سہی جلوس نکالنے کی اجازت حاصل ہو جائے تاکہ روایت قائم رہے لیکن جب تک حکومت کی جانب سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا جاتا اور باقاعدہ گائیڈ لائن جاری نہیں کی جاتی اس وقت تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جلوس نکلے گا یا نہیں یا اس کی کیا صورت ہوگی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جلوس نکالنے کے سلسلے میں کچھ مثبت اشارے ملے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK