Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی وزیر اسموٹریچ کا بیٹا زخمی، دعا کی اپیل، صارفین نے غزہ کی یاد دلائی

Updated: March 19, 2026, 10:34 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ کے بیٹے بنیا ہیبرون لبنان سرحد کے قریب ایک حملے میں زخمی ہوگیا۔ وزیر نے بیٹے کی اسپتال سے تصویر شیئر کرتے ہوئے دعاؤں کی اپیل کی، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے غزہ کی صورتحال یاد دلاتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔

Israeli Finance Minister Bezalel Smotrich takes a selfie with his son. Photo: X
اسرائیل کا وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ اپنے بیٹے کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ کے بیٹے بنیا ہیبرون لبنان کی سرحد کے قریب ایک حالیہ حملے میں زخمی ہوگئے، جس کے بعد یہ معاملہ نہ صرف اسرائیلی میڈیا بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں کم از کم آٹھ اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، جن میں وزیر کا بیٹا بھی شامل ہے، جسے چھرے لگنے سے جگر پر شدید چوٹ آئی۔
اسرائیلی وزیر بیزلیل اسموٹریچ نے سوشل میڈیا پر اپنے زخمی بیٹے کی اسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی تصویر شیئر کی، جس میں وہ دعا کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے عوام سے اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی۔ اس پوسٹ کے ساتھ ہی اسرائیلی سیاست اور جنگی پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ اطلاعات کے مطابق بنیا ہیبرون ان فوجیوں میں شامل تھا جو لبنان کی سرحد کے قریب جاری کشیدگی کے دوران تعینات تھے۔ حملے کی نوعیت کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم یہ بتایا جا رہا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں چھرے اڑے جس سے متعدد فوجی زخمی ہوئے۔ بنیا کے جگر میں چھرہ پیوست ہونے کی وجہ سے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا مسلمانوں کے حقِ عبادت کا دفاع، ٹوریز سے تنازع

بیزلیل اسموٹریچ اسرائیل کے ان وزراء میں شامل ہے جو سخت گیر پالیسیوں اور فلسطینی علاقوں میں جارحانہ اقدامات کا حامی رہا ہے۔ اسموٹریچ نے ماضی میں غزہ کے حوالے سے کئی متنازع بیانات دیے جس کے باعث اسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ایسے میں بیٹے کے زخمی ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل خاصا شدید دیکھنے میں آیا۔
جہاں ایک طرف اسرائیلی حلقوں اور ان کے حامیوں نے بنیا ہیبرون کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، وہیں دوسری طرف بڑی تعداد میں صارفین نے اس واقعے کو غزہ کی صورتحال کے تناظر میں دیکھا۔ متعدد افراد نے یاد دلایا کہ غزہ میں جاری حملوں کے دوران ہزاروں فلسطینی شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، شدید زخمی یا جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن ان کے لیے عالمی سطح پر ہمدردی کا وہی اظہار دیکھنے کو نہیں ملتا۔ 
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی صارفین نے اسموٹریچ کی پوسٹ کے نیچے تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اثرات سب پر یکساں ہوتے ہیں، اور وہی درد جو ایک اسرائیلی خاندان محسوس کر رہا ہے، وہی درد فلسطینی خاندان بھی روزانہ جھیل رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے یہ بھی لکھا کہ اگرچہ کسی بھی زخمی کے لیے ہمدردی ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وسیع تر انسانی بحران کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہزاروں صارفین نے اسموٹریچ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ان کی پالیسیوں اور بیانات کو تنقید کا محور بنایا۔ ناقدین نے کہا کہ وہی وزیر جو غزہ میں فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے رہے، آج اپنے بیٹے کے لیے ہمدردی اور دعاؤں کی اپیل کر رہے ہیں۔کئی صارفین نے لکھا کہ ’’جب غزہ میں بچوں کے جسموں کو چھرے اور بم چیر رہے تھے، تب کہاں تھی یہ اپیل؟‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’ان کے بیٹے کا درد اہم ہے، لیکن کیا فلسطینی بچوں کا درد کم تھا؟‘‘ اس طرح کے تبصرے بڑی تعداد میں دیکھنے میں آئے جن میں اسموٹریچ پر ’’دوہرا معیار‘‘ اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: تل ابیب پر لرزہ خیز میزائل حملے ، ۲۰۰؍ ہلاک

بعض صارفین نے اس معاملے کو ’’اخلاقی منافقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے استعمال کی حمایت کرنے والے لیڈر جب خود اسی درد سے گزرتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ کچھ تبصروں میں کہا گیا کہ ’’یہ وہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے خود تشکیل دیں‘‘، جبکہ دیگر نے لکھا کہ ’’جنگ صرف ایک طرف نقصان نہیں کرتی، یہ سب کو متاثر کرتی ہے۔‘‘
کئی بین الاقوامی صارفین نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا اور سیاسی قیادت اکثر اسرائیلی نقصانات کو نمایاں کرتی ہے، لیکن فلسطینی شہریوں کے مصائب کو اسی شدت سے نہیں دکھایا جاتا۔ اس تناظر میں اسموٹریچ کی اپیل کو ایک علامتی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر لبنان کی سرحد پر صورتحال مسلسل نازک بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرحدی جھڑپیں اور حملے خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف فوجی بلکہ عام شہریوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکومت نے اس حملے پر باضابطہ ردعمل ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ تاہم، اس واقعے نے داخلی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا جاری کشیدگی اور جنگی حکمت عملی ملک کو مزید خطرات کی طرف دھکیل رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK