Inquilab Logo Happiest Places to Work

مساجد کاانہدام مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کیلئے خطرہ

Updated: June 25, 2026, 8:19 AM IST | New Delhi

اے پی سی آر کی کانفرنس میںجوابدہی اورقانونی کارروائی کا مطالبہ ، اجتماعی ردعمل پر زور،ذمہ داران کو ۵۰؍ فیصد امید پر بھی قانونی لڑائی لڑنے کی صلاح

Salman Khurshid addressing a conference held at the Press Club while Syeda Hameed can be seen on his right and Jan Dayal and Zafarul Islam on his left. (Photo: Taken from APCR`s `X` account)
پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس سے سلمان خورشید خطاب کررہے ہیں جبکہ ان کے دائیں جانب سیدہ حمید اور بائیں  جانب جان دیال اور ظفر الاسلام کو دیکھا جاسکتاہے۔ (تصویر: اے پی سی آر کے ’ایکس ‘اکاؤنٹ سے لی گئی ہے)

ملک کی مختلف ریاستوں  میں  مساجد ،مدارس  اور مزارات پر   بلڈوزر چلانے  کے سرکاری رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے  ملک کی اہم تنظیم ’’ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘‘  (اے پی سی آر) نے اسے   مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کیلئے خطرہ قرار دیا ہے ۔اس نے  اس ضمن میں  جوابدہی طے کرنے اورقانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کلیریون ڈاٹ نیٹ  کے مطابق  ’’ہندوستان میں مساجد کا انہدام اور مذہبی آزادی پر حملے‘‘ کے عنوان سے منگل کوپریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ کانفرنس  میں  وکلا، سابق اراکین پارلیمان، سماجی کارکنوں اور مذہبی قائدین نے ہر حال میں قانونی لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 
اجلاس  میں اہم شخصیات 
 کانفرنس سے سابق مرکزی وزیر اور سینئر وکیل سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمان محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک محتشم خان، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان، مصنفہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمید، انسانی حقوق کے علمبردار جان دیال، اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان اور سید سعادت  علی اور ریاست علی جیسے وکلا نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں مساجد  پر بلڈوزر چلانے کا معاملہ محض جائیداد کے تنازع تک محدود نہیں بلکہ یہ آئین میں دی گئی  ضمانتوں، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے تمام شہریوں کے مساوی ہونے کے بنیادی مسئلے سے جڑا ہوامعاملہ ہے۔
قانونی جدوجہد جاری رکھنے پر زور
 سلمان خورشید نےسخت حالات کے باوجود  قانونی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہدامی کارروائیوں کے خلاف دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ ایک طویل لڑائی ہے۔ ہمارے پاس جو بھی قانونی راستے موجود ہیں، ان سب کا استعمال ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے حصول کی ان کوششوں کی قیادت ایسے افراد کے  ہاتھ میں ہونی چاہیے جو اس مقصد کیلئے سب سے زیادہ موزوں ہوں۔
سرکاری افسران کی جوابدہی ضروری
 سابق رکن پارلیمان محمد ادیب نے اُن سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جن کی نگرانی میں ایسی انہدامی کارروائیاں انجام دی گئیں جو بعد میں غیر قانونی ثابت ہوئیں۔ انہوں   نے کہا کہ ایسے غیر قانونی انہدامی کارروائیوں  میں شامل رہنے والے   افسران  اور پولیس اہلکاروں کو نہ صرف قانونی طور پر جوابدہ  بلکہ مالی طور پر  ذمہ دار  بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اجتماعی ردعمل کی وکالت
 ملک محتشم خان نے مختلف  مذہبی برادریوں کے درمیان اتحاد کی وکالت کی اور کہا کہ ناانصافی کے خلاف ردعمل اجتماعی ہونا چاہیے۔یہ کہتے ہوئے کہ’’ظالم کو کمزور اور مظلوم کو مضبوط ہونا چاہیے‘‘  انہوں نے  مختلف مذاہب کے لوگوں سے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
قانونی راستہ  ہر حال میں اختیار کریں
 کانفرنس میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ کامیابی کے امکانات کم ہونے کے باوجود قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ظفر الاسلام خان نے زور دیا کہ ان انہدامی کارروائیوں کو  عدالتوں چیلنج کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی انہوں  نے  ایسے معاملات  میں تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کی صلاح دی۔  انہوں نے کہاکہ ’’اگر ہارجانے کا  ۵۰؍ فیصد ہوتب بھی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔‘‘ بابری مسجد مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتیجہ کچھ بھی نکلے، قانونی جدوجہد کو  دستاویز شکل دینا تاریخی جوابدہی کیلئےاہم ہے۔ 
’’یہ ہمارے وجود کا سوال ہے‘‘
 ڈاکٹر سیدہ حمید نے اس مسئلے کو وسیع تاریخی تناظر میں پیش کیا۔  باقی صفحہ  ۶؍ پر

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK