لندن میں ہندوستانی کسانوں کے حق میں مظاہرہ

Updated: December 08, 2020, 7:15 AM IST | Agency | London

کورونا وائرس کے سبب ۳۰؍ افراد کو احتجاج کی اجازت ملی تھی مگر جب مظاہرہ شروع ہوا تو وہاں ایک جم غفیر موجود تھا۔ پولیس کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔ دوسری طرف برطانوی اراکین پارلیما ن نے ایک مکتوب کے ذریعے اپنے وزیر خارجہ سے حکومت ہند پر سفاتی دبائو ڈالنے کی اپیل کی

London Protest - Pic : Agency
لندن میں کسانوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے وہاں کے شہری (تصویر: ایجنسی

 ہندوستان  میں  نئے زرعی قوانین   کے خلاف کسانوں نے حکومت کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے اسے    دنیا کے مختلف ممالک سے حمایت ملی رہی ہے۔ برطانیہ میں  روزانہ کہیں نہ کہیں اس معاملے میں مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن  اتوار کو یہاں ایک بڑا احتجاج دیکھنے کو ملا جب  لندن میں واقع  ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر بڑی تعداد میں لوگ  جمع ہوئے اور انہوں نے کسانوں کے حق میں  نعرے لگائے۔   کسانوں کے تئیں حکومت ہند کے رویے سے ناراض برطانوی باشندوں  نے جن میں بڑتی تعداد ہندوستانیوں کی تھی حکومت  کے خلاف کھل کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں کسانوں کی حمایت   پر مبنی تحریروں کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ انہوں نے کسانوں کے حقوق کی حمایت میں اور حکومت ہند کے ناروا سلوک کے خلاف جم کر نعرے بھی لگائے۔ 
  قابلِ غور ہے کہ کورونا  وائرس  کے سبب برطانیہ  میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود چند ہندوستانی تنظیموں کے مطالبہ پرمقامی انتظامیہ نے  مذکورہ معاملے پر احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن یہ شرط بھی رکھی تھی کہ  احتجاج میں صرف ۳۰؍افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔ لیکن جب احتجاج شروع ہوا تو  سیکڑوں افراد وہاں جمع ہوگئے جنہیں قابو میں  کرنے کیلئے پولیس اہلکاروں کو مداخلت کرنی پڑی۔ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کچھ لوگوں کو ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں  حراست میں بھی لیا  ہے۔
 حکومت ہند پر سفارتی دبائو ڈالنے کا مطالبہ 
  اس احتجاج کے علاوہ    برطانیہ کے  ۳۶؍  اراکین  پارلیمان  نے کسانوں کی حمایت میں  اور حکومت ہند کے رویے کے خلاف اپنی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور مودی حکومت پر سفارتی دبائو بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ کی  لیبر پارٹی کے رکن تنم جیت سنگھ ڈھسی کی سربراہی میں آواز اٹھانے والے ان ۳۶؍ اراکین پارلیمان نے  برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب سے ملاقات کرکے انہیں ایک میمورنڈم دیا ہے۔ 
  ان اراکین نے وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں حکومت ہند سے گفتگو کریں اور اس پر اس بل کو واپس لینے کیلئے دبائو ڈالیں۔ اس سلسلے میں لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ بہت سے اراکین پارلیمان نے لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کو نئے زرعی قوانین کے متعلق اپنے خدشات  کے بارے میں لکھا تھا۔ یہ سکھوں اور برطانیہ میں پنجاب سے وابستہ لوگوں کے لئے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے  اور ا ن قوانین کا اثر دیگر ہندوستانی ریاستوں پر بھی پڑ ے گا۔
  تنم جیت  ڈھسی نے اس تعلق سے ایک ٹویٹ بھی کیا ہے جس میں انہوں نے کہا  ہے کہ ملک کی مختلف  ریاستوں سے  خصوصا ایسے افراد نے جن کا تعلق  ًپنجاب سے ان رابطہ کیا ہے اور  ہندوستان میں زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی  کی اپیل کی ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ لوگ اراکین پارلیمان  رجوع کر رہے ہیں تاکہ انہیں ہندوستانی کسانوں کے حق میں آواز اٹھانے  پر آمادہ کر سکیں۔ ڈھسی کے مطابق لوگ  ان  سے باضابطہ طور پر ملاقات کرنے آ رہے ہیں  ۔
  رکن پارلیمان کے مطابق اسی کا نتیجہ ہے کہ  مختلف پارٹیوں کے سیاستدانوں نے  متحدہ طور  پر ایک خط لکھا ہے جس پر ان سبھی کے  دستخط   ہیں۔ اس خطر میں ہندوستان میںپرُامن طور پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا  ہے جسے برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب  کو دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ اور کناڈ میں بڑے پیمانے پر ہندوستانی باشندے آباد ہیں جن میں اکثریت  پنجابیوں کی  ہے۔ یہ وہاں اتنے مضبوط ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھی ان کی اچھی خاصی تعداد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ   ان ممالک میں کسانوں کے حق میں سب سے زیادہ مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کھل کر کسانوں کی حمایت کی ہے جس پر ہندوستان نے ان کے سفیر کو بلاکر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ لیکن اس  اقدام سے اپنا رویہ نرم کرنے کے بجائے جسٹن ٹروڈو نے دوبارہ کسانوں کے حق میں بیان دیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے  درمیان ان دنوں حالات کشیدہ  ہیں۔ البتہ کسانوں کا معاملہ اب عالمی سطح پر گونج رہا ہے۔

london Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK