گورکھپور شہر میں بھی ڈینگو کی دستک ، ۲؍ مریضوں کا انکشاف

Updated: September 10, 2021, 12:58 PM IST | Mohammad Aatif | Gorakhpur

ایک مریض پریاگ راج اور دوسرا لکھنؤ سے آیا ہے۔مریضوں کے گھر کے اطراف اینٹی لاروا کا چھڑ کائوکرایا گیا، احتیاطی تدابیر کا مشورہ

This picture is of Fer Wazabad. Photo: PTI.Picture:PTI
یہ تصویر فیر وزآباد کی ہے ۔ ۔تصویر: پی ٹی آئی

ڈینگو نے  اتر پر دیش کے گورکھپور شہر میں بھی دستک دی ہے۔ اس سال پہلی بار دو مریضوں کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں کا تعلق راپتی نگر سے ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم نے مریضوں کے گھر کے اطراف جمع پانی میں اینٹی لاروا کا چھڑکاؤ کرایا ہے۔ساتھ ہی بچائو کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کر نے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ راپتی نگر کا ایک۲۷؍ سالہ نوجوان۳؍ ستمبر کو پریاگ راج سے آیا ہے۔ بخار کی وجہ سے وہ راپتی نگر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج ہے ۔ وہیں اس کا ڈینگو کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ دوسرا مریض اسی علاقے کا ۹؍سالہ بچہ ہے۔ وہ لکھنؤ میں پازیٹیو آیا لیکن ۴؍ ستمبر کو اس کی رپورٹ نگیٹو آئی۔ اس کے بعد وہ گورکھپور آیا ہے۔ احتیاط کے طور پر محکمۂ صحت کی ٹیم اس کے گھر پہنچی۔ فریج کے پیچھے لگے باکس اور کولر سے پانی نکالا گیا۔ اس کے ساتھ ہی گھر کے اطراف کے پانی میں اینٹی لاروا کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ ٹیم میں اے سی ایم او ڈاکٹر اے کے چودھری ، ضلع ملیریا کنٹرول افسرڈاکٹر انگد سنگھ وغیرہ شامل تھے۔
 پانی جمع ہونے پر۲؍کو نوٹس
 گھر کے ارد گرد پانی جمع ہونے   سے متعلق  محکمہ صحت نے ۲؍افرادکو نوٹس جاری کر کے پانی ہٹا نے کو کہا ہے۔ ضلع ملیریا کنٹرول افسر ڈاکٹر انگد سنگھ نے نوٹس کے سلسلے میں کہا کہ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے بعد دوبارہ جانچ کرائی جائے گا۔ اگر پانی نہیں نکالا گیا تو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ان کے مطابق ٹھہرے ہوئے پانی میں’ایڈیز مچھروں‘ کی افزائش کا امکان ہے اور اس سے لوگوں کو ڈینگو ہو سکتا ہے۔ ڈینگو کی علامات میں جلد پر خارش ، سر میں شدید درد ، کمر میں درد ، آنکھ میں درد ، تیز بخار ، مسوڑھوں سے خون آنا ، ناک سے خون آنا ، جوڑوں کا درد ، قے اور  دست  شامل ہیں۔ڈینگو کے مچھر دن میں کاٹتے ہیں۔
میڈیکل کالج میں۷۰؍ اور ضلع اسپتال میں۱۱؍ بیڈ تیار
 ڈینگوسے نمٹنے کے لئے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں۷۰؍ بیڈ پر مشتمل وارڈ بنایا گیا ہے۔یہاں ۲۰؍ ڈاکٹر،۲۵؍ا سٹاف نرس ،۱۵۔۱۵؍ وارڈ بوائز اور صفائی کارکنوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع اسپتال میں۱۱؍ بیڈ اور تمام سی ایچ سی میں ۵۔۵؍ بیڈ تیار کئے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK