Updated: February 01, 2026, 6:05 PM IST
| Copenhagen
ڈنمارک ایک سال سے زائد قید کی سزا پانے والے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرے گا، وزیراعظم میٹ فریڈرکسن کا کہنا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں جہاں تک ممکن ہو اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، اور جب بین الاقوامی قوانین ناکافی ہوں گے تو انہیں تبدیل کرنا ہوگا۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن۔ تصویر: آئی این این
ڈنمارک کی حکومت نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ ایک نئی اصلاحات کے ذریعے ایسے غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جنہیں ایک سال یا اس سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہو۔ براڈکاسٹر ٹی وی۲؍ کے مطابق، وزیراعظم میٹ فریڈرکسن نے ایک کانفرنس میں اعلان کیا کہ سنگین جرائم جیسے شدید حملہ اور عصمت دری کے مرتکب غیر ملکی شہریوں کو کم از کم ایک سال کی غیر مشروط قید کی سزا ملنے پر ملک بدرکیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ ’’سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے غیر ملکیوں کو انتہائی واضح نقطہ آغاز کے طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے۔‘‘کنونشن کے چیلنج کے بارے میں پوچھے جانے پر، فریڈرکسن نے کہا کہ وہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے سے پہلے قانون سازی میں تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہم نے وہی کیا ہوتا جو ہم عام طور پر کرتے ہیں، یعنی عدالت کے اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا انتظار کرتے، تو اس میں بہت زیادہ وقت لگتا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ اسی لیے ہم پہلے ہی سے ڈینش قانون سازی کو تبدیل کر رہے ہیں‘‘۔
یہ بھی پڑھئے: بروکلین: غزہ کے شہید بچوں کیلئے ۵۰؍ فٹ کا میورل، تمام کے نام درج
بعد ازاں فریڈرکسن نے کہا کہ ’’ہم موجودہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں جہاں تک ممکن ہو اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، اور جب بین الاقوامی قوانین ناکافی ہوں گے تو انہیں تبدیل کرنا ہوگا‘‘۔براڈکاسٹر ڈی آر کے مطابق، اصلاحات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکی مجرم جو حکام کو اپنی رپورٹنگ کی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، انہیں ایک سال کے لیے جی پی ایس انکلٹ پہننا ہوگا۔