مدنپورہ کے جھولامیدان علاقے میں رہنے والی دسویں جماعت کی طالبہ ۱۵؍سالہ خدیجہ محمد ارشاد شیخ کےدونوں گردہ خراب ہوچکے ہیں، اس کے باوجود وہ ایس ایس سی امتحان میں شرکت کررہی ہیں اورامتیازی نمبروں سے کامیاب ہوکر ڈاکٹر بنناچاہتی ہے۔
خدیجہ محمد ارشاد شیخ ا متحان کی تیاری کررہی ہے۔ تصویر:آئی این این
مدنپورہ کے جھولامیدان علاقے میں رہنے والی دسویں جماعت کی طالبہ ۱۵؍سالہ خدیجہ محمد ارشاد شیخ کےدونوں گردہ خراب ہوچکے ہیں، اس کے باوجود وہ ایس ایس سی امتحان میں شرکت کررہی ہیں اورامتیازی نمبروں سے کامیاب ہوکر ڈاکٹر بنناچاہتی ہے۔ اس کا گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہفتہ میں ۳؍مرتبہ ڈائیلاسس ہوتا ہے۔ تیسری جماعت میں دونوں گردے خراب ہونےکی تصدیق ہوئی تھی۔
محمد عمررجب اُردو ہائی اسکول میں زیرتعلیم خدیجہ شیخ کا سینٹر بائیکلہ میونسپل اُردو اسکول میں ہے۔ جمعہ کو اس نے اُردو کاپرچہ جوش وخروش سےدیا۔ ۸۰ ؍ مارکس کاپورا پرچہ حل کرنے سے ملنےوالی خوشی اور اعتماد کے ساتھ وہ پیرکو ہونےوالے مراٹھی کے پرچہ کی تیاری میں مصروف ہے۔ خدیجہ نے اس نمائندے کو بتایاکہ ’’میرے دونوں گردے خراب ہوچکےہیں،اس کے باوجود مجھے پڑھائی کابہت شوق ہے۔ میں پڑھ کر ڈاکٹر بنناچاہتی ہوں۔ ہردوسرےدن ڈائیلاسس ہونے سے میری صحت ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ سستی اور بخار کااثر رہتاہےپھر بھی ڈائیلاسس کرانےکےکچھ گھنٹوں بعد میں پڑھائی کرنے میں مصروف ہوجاتی ہوں۔ بہر صورت پڑھائی کرکےایک اچھاانسان بنناچاہتی ہوں۔‘‘
خدیجہ کی والدہ شاہین محمد ارشاد شیخ نے بتایاکہ ’’ دواکے علاوہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہر دوسرے دن اس کا ڈائیلاسس ہورہاہے، اس کےباوجود وہ پابندی سے اسکول جاتی تھی۔ اب وہ ایس ایس سی امتحان میں کامیاب ہوکر کالج کی پڑھائی کرناچاہتی ہے۔‘‘ ایک سوال کےجواب میں انہوں نےبتایاکہ ’’ خدیجہ پڑھائی میں بہت ہشیار ہے۔ ہمیشہ اوّل درجے سے پاس ہوتی ہے۔میں بھی چاہتی ہوں کہ وہ جتنا پڑھ سکتی ہے ،اسے پڑھایاجائے ۔‘‘ علاج سےمتعلق دریافت کرنے پر انہوںنے بتایاکہ ’’ ڈاکٹروںنے کڈنی ٹرانسپلانٹ کامشورہ دیاہے۔ ہماری مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ویسے اس کانام کڈنی ٹرانسپلانٹ کی ویٹنگ لسٹ میں درج ہے۔ دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کیا اسباب پیداکرتاہے۔‘‘
محمد عمررجب اسکول کی ہیڈانچارج شیخ تبسم مزمل نے کہاکہ ’’ خدیجہ کو پڑھائی کا بہت شوق ہے۔ جس دن اس کا ڈائیلاسس ہوتاہے ، اس کے بعدوہ اسپتال سے سیدھے اسکول آتی ہے ، حالانکہ ڈائیلاسس کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہوتی ہے ،ہم اسے گھر جانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں لیکن وہ اسکول میں پڑھائی کو ترجیح دیتی ہے۔بہت جرأتمند لڑکی ہے ۔ اس کی تعلیمی کارکردگی بھی بہترین ہے۔‘‘