سماجی تنظیموں اورافراد کے توسط سےسینٹرل ریلوے میں ۱۵۰؍ایکڑ علاقے کی تزئین کاری

Updated: August 04, 2022, 9:35 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

سینٹر ل ریلوے انتظامیہ نے لوگوں کومتوجہ کیا ۔ ۱۸؍اگست تک درخواست دی جاسکتی ہے ۔ اس کے ذریعے ریلوے علاقے کو ہرابھرا اورماحول کوبہتر بنانے کی کوشش ۔ ان زمینوں پرزہریلے پانی سے سبزی ترکاری اگانے کی شکایت بھی ملی ہے لیکن ریلوے کے مطابق یہ پالیسی اس سے مختلف ہے

Railways strives to make its grounds clean and beautiful.
ریلوے اپنی زمینوں کوصاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کیلئے کوشاں ہے۔

سینٹرل ریلوے میں ۱۵۰؍ ایکڑ علاقے کی تزئین کاری سماجی تنظیموں اور افراد کے توسط سے کرنے کیلئے سینٹر ل ریلوے نے لوگوں کو متوجہ کیا ہے ۔اس تعلق سے ۱۸؍ اگست تک درخواست دی جاسکتی ہے ۔دراصل اس مہم کے ذریعے ریلوے علاقے کو   ہرابھرا ، صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ماحول کوبہتربنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس میںغیرسرکاری تنظیمیں، ادارے، سرکاری ادارے ، افراد ،گروپ ، ایجنسی اورکمپنیاں بھی شریک ہوسکتی ہیں۔ دراصل کہا جارہا ہےکہ ریلوے یہ زمینیں سبزی ترکاری اگانے کیلئے کنٹریکٹ پردیتی تھی لیکن یہ سبزیاں گٹراورکیمیکل آمیزش والی فیکٹری کے پانی سے اگائی جاتی تھیں ، متعدد مرتبہ اس سلسلے میںشکایت کرنے کےبعد ریلوے نے اب یہ فیصلہ کیا ہے۔
 سینٹرل ریلوےمیں۱۵۰؍ ایکڑ قطعہ اراضی پر تزئین کاری کی جائے گی۔ یہ زمینیں ۱۲۵؍ مقامات پر اسٹیشن کے پاس ، پٹریوں کےدرمیان اورپٹری سے متصل ہوںگی۔ کہیں چھوٹا ٹکڑا ہوگا توکہیںکچھ بڑا ۔ جس کمپنی ،فرد یا ادارے کومفت زمین دی جائے گی وہ اپنے ادارے یا کمپنی کی تشہیر کے لئے بورڈ بھی وہاںآویزاں کرسکے گی۔
 اس سلسلے میں۱۸؍اگست تک درخواست دینے یا انجینئرسے رابطہ قائم کرنے کوکہاگیا ہے ۔ ا س کے بعد ۲۲؍ اگست کوموصول ہونے والی درخواستوں پرغور کرتے ہوئے یہ طے کیا جائے گا کہ زمین کسے دی جائے گی،کون اس کا صحیح حق دار ہے ۔اسی وقت اس سے متعلق دیگرشرائط بھی امیدواروں کو بتادی جائیںگے۔ 
 یہ تمام تفصیلات سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او شیواجی ستار نےنمائندۂ انقلاب کے استفسار پر بتایا اوریہ بھی کہا کہ ’’اس سے قبل بھی ۵؍جولائی کو لوگوں کومدعو کیا گیا تھا لیکن شاید تیزبارش کے سبب لوگ نہیں آسکے تھے۔ ریلوے انتظامیہ یہ چاہتا ہےکہ ریلوے علاقے کی تزئین اورماحو ل کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے پرائیویٹ اداروں ،افراد یا تنظیموں کی مدد لی جائے اوران کوموقع دیاجائے۔ا س سے دونوں کا فائدہ ہوگا ۔ریلوے کا بوجھ کم ہوگا، ریلوے علاقہ صاف ستھرا ہوگا اور مسافروں کواچھا ماحول میسر آئے گانیزتنظیمیں یاادارے اپنی تشہیرکرسکیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ سب سے اہم اور بنیادی مقصد صاف صفائی اوربیوٹیفکیشن کے ذریعے ماحولیات کا تحفظ ہے۔جب کسی ایجنسی کی ذمہ داری کسی علاقے کی یا کسی ریلوے  اسٹیشن کے قریب کی زمین کی ہوجائے گی تووہ اس کی نگرانی کرنے کی ذمہ دار ہوگی اوراس کی جواب دہی بھی طے کی جائے گی ۔‘‘ چیف پی آر اونے یہ بھی کہاکہ ’’ ریلوے کی جانب سے اپنے طور پر کئی مقامات پرتزئین کاری کی گئی ہے اور خوبصورت چھوٹے چھوٹے گارڈن بھی بنائے گئے ہیں۔ اس سے ریلوے علاقہ مزیدخوبصورت اورصاف ستھرا ہوجاتا ہے۔ ‘‘ 
 شیواجی ستار کے مطابق ’’ ان تمام باتوں کا انحصار لوگوںکے دلچسپی لینے پر ہے۔اس تعلق سے ریلوے کی جانب سے جو پالیسی بنائی گئی ہے اسی حساب سے خواہش مندوں کوبتایا جائے گا اور ۲۲؍ اگست کویہ طے ہوجائے گا کہ کتنے لوگوں نے دلچسپی لی ۔ اس سلسلے میں خواہشمند افراد یا ادارے سینئر ڈویژنل انجینئرسریش پاکھرے سے ۸۸۲۸۱۱۹۲۰۰؍ پر اور پی وی پیٹھانکری سے ۸۸۲۸۱۱۹۲۱۵؍ پربھی رابطہ قائم کرکے مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
 اس تعلق سے سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او شیواجی ستار سے یہ پوچھنے پر کہ کیا سبزی ترکاری اگانے کیلئے ریلوے کی جانب سے پٹری کے قریب جو زمینیںدی جاتی تھیں اورکنٹریکٹر گٹر اورفیکٹری کے کیمیکل ملے ہوئے پانی کا استعمال کرکے وہاں سبزیاں اگاتے تھے، ان سبزیوں کے استعمال سے صحت پرانتہائی خطرناک اثرات مرتب ہورہے تھے ، حتی کہ کینسر کا اندیشہ تھا ۔ متعدد مرتبہ اس کی شکایت ملنے کےبعد اب ریلوے نے اس پرتوجہ دیتے ہوئےاپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے ؟ تو چیف پی آر اونے کہا کہ ’’ نہیں،یہ دونوں الگ الگ موضوع ہیں۔ تزئین کاری کے لئے ریلوے بورڈ نے پورے ملک کیلئے نئی پالیسی مرتب کی ہے اور اس میں پبلک سیکٹر کوشامل کیا جارہا ہے۔جہاں تک سبزی ترکاری اگانے اوراس میںکیمیکل ملا ہوا پانی استعمال کرنے کی بات ہے تویہ سچ ہے کہ اس تعلق سے شکایات ملی ہیں  اسی لئے اب وہ زمینیں کنٹریکٹرس کودوبارہ نہیں دی جائیںگی بلکہ کنٹریکٹ ختم ہونے کےبعد یہ زمینیںبھی تزئین کاری کیلئے استعمال کی جائیںگی۔‘‘ انہوںنے یہ بھی وضاحت کی کہ ’’سینٹر ل ریلوے میں ۲۰؍ ۲۵؍ ایکڑ زمینیں ہی سبزی اگانے کیلئے دی گئی ہیںجبکہ تزئین کاری پورے ممبئی ڈویژن میں ۱۵۰؍ ایکڑپر ہوگی ۔اس لئے یہ پالیسی سبزی ترکاری اگانے کیلئے زمین دینےسے بالکل مختلف ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK