Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی: ۴؍ مئی کو ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دفتر پر زبردست مورچہ

Updated: May 02, 2026, 2:44 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

پورے علاقے سے مکینوں کی شرکت یقینی بنانے کیلئے میٹنگیں۔ دھاراوی بچاؤ آندولن نے۱۰؍ مطالبات کا اعادہ کیا اور دھاراوی کو دوسرا ’بی کے سی‘ نہ بننے دینے کا عہد کیا۔

Participants of a meeting held at Raje Shivaji Vidyalaya in Dharavi against arbitrary redevelopment of the area. Photo: INN
علاقے کے ری ڈیولپمنٹ میں من مانی کے خلاف دھاراوی کے راجے شیواجی ودیالیہ میں منعقدہ میٹنگ کے شرکاء۔ تصویر: آئی این این

اڈانی گروپ کے ذریعے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی پر من مانی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے دفتر پر پیر۴؍ مئی کی صبح زبردست مورچہ نکالا جائے گا۔ یہ مورچہ کمہار واڑہ ناکہ سے صبح۱۱؍ بجے نکالا جائے گا۔ اس سلسلے میں جمعہ کی سہ پہر پھر میٹنگ کی گئی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ دھاراوی کے تمام مکین اس کا حصہ بنیں اور بھرپور طاقت کا مظاہرہ کریں تاکہ غیر قانونی قرار دیئے جانے اور دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کے منصوبے سے ’ڈی آر پی اے ‘باز رہے۔ 
مختلف نعرے والے پمفلٹ شائع کئے گئے
اس موقع پر دھاراوی واسیوں اور دھاراوی بچاؤ آندولن کی جانب سے یہ آواز بلند کی گئی اور اسے مورچے کے لئے شائع کردہ پمفلٹ میں بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ ’ہم دھاراوی واسی ہیں ، باہر سے نہیں آئے، ہمیں وکاس چاہئے مگر اجاڑ کر یا بھگاکر یا زور زبردستی اور غیر قانونی قرار دے کر نہیں، ہم دھاراوی کو دوسرا بی کے سی نہیں بننے دیں گے ‘وغیرہ۔ ان ہی نعروں کے ساتھ زبردست احتجاج کی تیاری کیلئے جمعہ کی شام ۴؍ بجے سے راجے شیواجی ودیالیہ دھاراوی میں ذمہ داران اور دھاراوی بچاؤ آندولن کے عہدیداران کی میٹنگ ہوئی جس میں تمام مدعوں پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی کے طلبہ کی سہولت کیلئے اتوار کو سینٹرل ریلوے میں میگا بلاک نہیں ہوگا

۱۱؍ مطالبات کا اعادہ 
(۱) ۴؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کے جی آر کو منسوخ کیا جائے (۲)دھاراوی کے تمام باشندوں کو دھاراوی میں ہی ۵۰۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جائے۔ ۵۰۰؍ مربع فٹ سے زیادہ کی جگہ والی چالیوں اور بی ایم سی علاقوں میں رہنے والوں کو۷۵۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جائے۔ ۷۵۰؍ مربع فٹ یا اس سے زیادہ جگہ والوں کو کم از کم اتنی جگہ دی جانی چاہئے جو ان کے پاس ہے (۳) اقتصادی زون بنا کر تمام دکانوں، کارخانوں، کاروباروں اور صنعتوں کو دھاراوی کے اندر جگہ مختص کی جائے (۴) دھاراوی کو تمام مذہبی مقامات بشمول مندروں، مساجد، گرجا گھروں، گراؤنڈز، پویلین، اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کو مناسب جگہ فراہم کرنے کے بعد ہی ری ڈیولپ کیا جائے (۵) تمام مکینوں کو۲۰؍ سال تک تمام ٹیکس اور اخراجات سے مستثنیٰ رکھا جائے (۶) اگر دھاراوی کی تعمیر نو کا منصوبہ ایک اہم منصوبہ ہے تو۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء سے پہلے دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخ، اہلیت کیلئے ہٹا دی جائے اور سروے کی تاریخ کو حتمی شکل دی جانی چاہئے یا ایس آر اے کو ممبئی کی دوسری جگہوں کی کچی آبادیوں پر نافذ ہونے والی۲۰۱۱ء کی آخری تاریخ پر غور کرنا چا ہئے (۷) اگر کسی جھوپڑے کے اصل مالک نے اسے کسی دوسرے کو بیچ دیا ہے تو منتقلی کے عمل کو دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ (۸)این ایم ڈی پی ایل کی جانب سے اس سے قبل کئے گئے غیر قانونی سروے کو منسوخ کیا جائے کیونکہ اس سروے میں ۸۵؍ فیصد لوگ نااہل قرار دیئے گئے تھے جو کہ ایک غلط اور زیادتی پر مبنی سروے ہے۔ یہ سروے دلالوں اور بدعنوانوں کے کہنے پر کیا گیا ہے، دھاراوی کے باشندے اسے قبول نہیں کرتے (۹) دھاراوی میں تمام ڈھانچوں کا ایک نیا سروے بی ایم سی یا کلکٹر کے ذریعہ کرایا جائے۔ اب مزید کوئی دستاویزات حاصل نہ کیا جائے۔ ڈھانچے کو اہل قرار دینے کے بعد ہی دستاویزات حاصل کئے جائیں (۱۰) دھاراوی کے ری ڈیولپمنٹ کی خاطر ایس آر اے کے ضابطہ سی ۲؍ کے تحت مکینوں کو اسی علاقے میں دوبارہ آباد کیا جائے جہاں وہ اس وقت رہتے ہیں۔ دھاراوی کے کسی باشندے کی دھاراوی سے باہر، ملنڈ، دیونار، نمک سازی کی زمین یا ملاڈ کی زمین پر یا ریلوے کی زمین پربازآبادکاری نہ کیا جائے۔ (۱۱) اگر کمہارواڑہ کو برطانوی حکومت نے۱۹۳۳ء میں ایک معاہدے کے ذریعے قائم کیا تھا تو کمہارواڑہ کے تمام باشندوں کو ڈی آر پی سے ہٹا کر ایک الگ اسکیم کے تحت اسی علاقے میں دوبارہ بسایا جائے جس میں جدید بھٹیوں کے ساتھ رہائشی اور تجارتی جگہ فراہم کی جائے اور دھاراوی کی باز آبادکاری سرکاری ایجنسیوں مہاڈا، ایم ایم آر ڈی اے وغیرہ سے کرائی جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی۔ بھیونڈی کوریڈور میں این سی بی کی بڑی کارروائی، ۳۴۹؍کلو کوکین ضبط

اس میٹنگ میں دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے، کامریڈ نصیرالحق، پال رافیل، الیش گاجاکوش، انصار احمد، انل کسارے اورسنجے جیسوال کے علاوہ کئی اور ذمہ داران شریک ہوئے۔ شرکائے میٹنگ نے پوری طاقت سے دھاراوی واسیوں کا حق ملنے کیلئے اتحاد، سنگھرش اور باہمی تال میل مضبوط کرنے کے ساتھ پیر کے مورچے کو کامیاب بنانے کا عہدکیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK