چار بچوں میں سے ایک کو آر ایس ایس کے حوالے کرنے والے بیان پر بھی صفائی دی، کہا’’ میرے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا‘‘
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 12:14 AM IST | Nagpur
چار بچوں میں سے ایک کو آر ایس ایس کے حوالے کرنے والے بیان پر بھی صفائی دی، کہا’’ میرے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا‘‘
ناگپور میں ایک پروگرام کے دوران چھترپتی شیواجی اور سمرتھ رام داس سوامی کے تعلق سے فرضی واقعہ سنا کر تنازع میں گھر چکے دھیریندر کمار شاستری نے بالآخر معافی مانگ لی ہے۔ یاد رہےکہ ان کے بیان پر کانگریس، این سی پی (شرد) سمیت کئی پارٹیوں اور تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ حتیٰ کہ دیویندر فرنویس نے بھی ان کے بیان کو تاریخی اعتبار سے غلط بتایا تھا۔ تاہم دھیریندر شاستری نے اتوار کی رات میڈیا کے سامنے اس تعلق سے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا، ’’کچھ لوگوں نے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ اگر آج اس ملک میں سناتنی دھرم اور ہندوتوا زندہ ہے تو اس کا سہرا چھترپتی شیواجی مہاراج کے سر جاتا ہے۔ ہم اُن لوگوں پر تنقید کیسے کرسکتے ہیں جن کے طرز حکومت نے ہمیں ہندو راشٹر کے قیام کی تحریک دی تھی۔‘‘ انہوں نے کہا’’ میں نے اپنے الفاظ میں سنت اور مہاراج کے تئیں ان کے جو جذبات تھے اس کا اظہار کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
چھترپتی شیواجی مہاراج اور سمرتھ رام داس سوامی کے بارے میں متنازع بیان کے بعد مہاراشٹر میں شیواجی مہاراج کے عقیدمندوں اور سیاسی رہنماؤں کی شدید تنقید کا جواب دیتے ہوئے دھیریندر شاستری نے کہا کہ ’’چھترپتی شیواجی مہاراج کو ماننے والے تمام لوگ ہمارے ہیں۔ اگر ہم اس طرح کے مسائل پر آپس میں الجھتے ہیں تو اس سے دوسروں کو ہی فائدہ ہوگا۔ میرے دل میں کسی کے لئے کوئی کھوٹ نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود میں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ اس کے علاوہ اپنی تقریر میں دھیریندر شاستری نے راشٹریہ سویم سیوک (آر ایس ایس) کو مضبوط کرنے کے لئے کہا تھا کہ ۴؍ بچے پیدا کریں اور ان میں سے ایک آر ایس ایس کو دیدیں۔ اس کی بھی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’سنگھ کو بیٹا دینے کا مطلب یہ ہے آپ اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کریں کہ اُسے ایک کٹر قوم پرست بنائیں۔ چاہے وہ کلکٹر ہو، استاد ہو یا کچھ اور، میرا مقصد یہ تھا کہ اُس کے خیالات کٹر سناتنی والے چاہئے۔‘‘ یاد رہے کہ کچھ روز قبل ناگپور میں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دھریندر شاستری نے دعویٰ کیا تھا کہ شیواجی مہاراج مسلسل جنگوں سے تنگ آکر اپنی حکومت رام داس سوامی کے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ دھیریندر شاستری کے اس متنازع بیان سے مہاراشٹر بھر میں ناراضگی کا اظہار کیا جارہا تھا اور کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اس بیان کو لے کر باگیشور بابا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چھترپتی شاہو مہاراج سمیت کئی تنظیموں نے دھیریندر شاستری پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا طھی تھا۔ آخر کار بڑھتی ہوئی مخالفت کو دیکھتے ہوئے دھیریندر شاستری نے اس معاملے پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنا وضاحتی بیان بھی دیا اور معافی بھی مانگ لی۔