Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجے گائیکواڑ کی گووند پانسرے کی کتاب شائع کرنے والے پبلشر کو دھمکی

Updated: April 24, 2026, 12:44 PM IST | Mumbai

۳۷؍ سال قبل شائع ہونے والی پانسرے کی کتاب ’ کون تھا شیواجی؟‘ پر رکن اسمبلی کو اب اعتراض، پبلشر کو فون کرکے گالی گلوچ کی۔

Sanjay Gaikwad with the book he objects to. Photo: INN
سنجے گائیکواڑ کتاب کیساتھ جس پر انہیں اعتراض ہے۔ تصویر: آئی این این

اکثر تنازعات کے سبب سرخیوں میں رہنے والے شیوسینا (شندے) کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ نے ایک بار پھر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کامریڈ گووند پانسرے کی ۳۷؍ سال قبل لکھی ہوئی کتاب ’کون تھا شیواجی‘ کے پبلشر کو فون کرکے گالی گلوچ کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ کانگریس اور این سی پی (شرد) نے گائیکواڑ کے خلاف معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’۱۵؍ دنوں میں پانی کے مسئلے پر وہائٹ پیپر جاری کیا جائے‘‘

یاد رہے کہ کامریڈ گووند پانسرے نے ۱۹۸۸ء میں ایک کتاب لکھی تھی’ کون ہوتا شیواجی؟‘( کون تھا شیواجی؟)جس میں انہوں نے چھترپتی شیواجی کو پسماندہ اور دبے کچلے لوگوں کو متحد کرنے والا اور ان کیلئے لڑنے والا حکمراں قرار دیا تھا۔ اس کتاب کا بشمول اردوکئی زبانوں میںترجمہ ہو چکا ہے۔ ۳۷؍ سال بعد اچانک شیوسینا (شندے) کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ کو یہ کتاب قابل اعتراض معلوم ہوئی اور انہوں نے کتاب کے پبلشر پرکاش آمبی کو فون کرکے نہ صرف گالم گلوچ کی بلکہ گووند پانسرے جیسا حشر کرنے کی دھمکی دی۔ یاد رہے کہ گووند پانسرے کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ سنجے گائیکواڑ کے اس فون کی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ آڈیو میں گائیکواڑ کہہ رہے ہیں’’ تم نے یہ کتاب شائع کرکے چھترپتی شیواجی کی توہین کی ہے۔ مہاراج کا اس طرح بے ادبی کے ساتھ تذکرہ کرنے والا گووند پانسرے کون ہوتھا ہے؟ کیا اس نے چھترپتی شیواجی سے کبھی بات کی تھی؟ کبھی ان سے ملا تھا؟‘‘ اس پر پرکاش آمبی نے گائیکواڑ کو سمجھایا کہ یہ کتاب چھترپتی شیواجی کی توہین کرنے کیلئے نہیں لکھی گئی ہے بلکہ اس میں ان کے کئے گئے کاموں کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ آپ پہلے وہ کتاب پڑھ لیجئے۔ گائیکواڑ ان کے سمجھانے پر اور بھڑک گئے۔ انہوں نے کہا’’ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اس کتاب کو پڑھنے کی۔ تم جیسے نالائق لوگ چھترپتی شیواجی کا تذکرہ بے ادبی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تجھے معلوم ہے نہ کہ گووند پانسرے کے ساتھ کیا ہوا؟ تیرا حشر بھی پانسرے جیسا کریں گے۔ ‘‘وہ یہیں تک نہیں رکے۔ انہوں نے دھمکایا ’’ میں تیرے گھر میں گھس کر تجھے ماروں گا ، تجھے چیر کے رکھ دوں گا، تیری زبان کاٹ دوں گا۔  اس پر پرکاش آمبی نے بے خوف ہو کر کہا ’’ ٹھیک ہے، آپ کل میری زبان کاٹنے کیلئے میرے دفتر آجائیے، دیکھتے ہیں۔‘‘ تب جا کر سنجے گائیکواڑ نے فون رکھ دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مراٹھی زبان کے تنازع پر ایڈوکیٹ سداورتے اور ایم این ایس کارکنان میں تصادم

اس معاملے میں وجے وڈیٹیوار، روہنی کھڑسے اور روہت پوار نے سنجے گائیکواڑ کے خلاف معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK