• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھولیہ: میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی نے اپنا قبضہ برقراررکھا

Updated: January 17, 2026, 8:34 AM IST | Dhule

۱۰؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم ) دوسری نمبر کی پارٹی بن کر ابھری، نتائج کے بعد بھگوا اور سبز گلال سے شہر رنگ گیا،ایم آئی ایم، این سی پی (اجیت)،ایک آزاد امیدوار ملاکر ۱۹؍مسلم امیدوار کامیاب ہوئے

AIMIM`s successful candidate is carried on his shoulders by his supporters, expressing joy.
ایم آئی ایم کے کامیاب امیدوار کو انکے حامی کندھوں پر اٹھاکر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے

۷۴؍ نشستوں والی دھولیہ میونسپل کارپوریشن انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی) نے۵۱؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے مسلسل دوسری بار کارپوریشن پر اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔بی جے پی کے رکن اسمبلی انوپ اگروال نے ۵۵؍پلس کا دعوی کیا تھا لیکن اس ہدف سے وہ  ۴؍سیٹ پیچھے رہ گئے ۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ١۰؍ نشستوں پر فتح حاصل کرکے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ایم آئی ایم دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق شاہ کی قیادت میں این سی پی (اجیت پوار) محض۸؍سیٹوں پر ہی سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ شندے سینا بھی صرف ۴؍سیٹ پر کامیاب ہوئی ہے ۔ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ شندے سینا اور این سی پی (اجیت ) دھولیہ کارپوریشن انتخاب میں کوئی کرشمہ کر دکھائیں گے۔ لیکن دونوں پارٹیاں مہایوتی کی اپنی دوست پارٹی بی جے پی کے سامنے نہیں ٹک سکی۔
         معلوم ہوکہ دھولیہ کارپوریشن انتخاب میں اس بار رائے دہندگان میں جوش و خروش گزشتہ انتخابوں کی طرح نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ صرف ۵۶ء۷۳؍ فیصد پولنگ ہوئی۔اس مایوس کن فیصد سے نتیجہ حیرت انگیز لگنے کا قیاس لگایا جارہا تھا ۔لیکن بی جے پی نے حسب روایت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے ساری پیشگوئیوں پرپانی پھیر دیا ہے۔
         اس انتخاب میں کانگریس کو بری طرح سے شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ۱۰؍ سے ۱۲؍ سیٹ پر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس پارٹی اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی ہے۔ شیو سینا (ادھو )این سی پی (شردپوار)،سماج وادی، ایم این ایس بھی کانگریس کی طرح ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے اویسی برادران نے دھولیہ میں ۲؍ جلسے کئے جس سے مسلم ووٹروں میں مجلس کے تئیں جوش پروان چڑھا یہی وجہ ہے کہ ایم آئی ایم مسلم اکثریتی آبادی والے وارڈ نمبر۱۵، ۱۴ میں۸؍سیٹ اور وارڈ نمبر۱۹؍میں۲؍سیٹ اس طرح۱۰؍سیٹ پر فتح یاب ہوئی ہے۔سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق شاہ کی قیادت میں این سی پی (اجیت)مسلم اکثریتی آبادی والے دہیں۔  وارڈ نمبر۴؍اور وارڈ نمبر۱۳؍میں۸؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ہندو علاقوں میں این سی پی بی جے پی کے سامنے ٹک نہیں پائی ۔
کس کی کیا پوزیشن ہے؟
بی جے پی۵۱، ایم آئی ایم ۱۰،این سی پی اجیت۸،شندے سینا۴،آزاد ایک 
      بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھاری اکثریت سے جیت حاصل کرنے پر شہر میں جشن کا ماحول ہے۔ رکن اسمبلی انوپ اگروال کی قیادت میں ڈی جے، ڈھول تاشوں کی گونج میں جشن منایا جارہا ہے۔ شہر کے اہم راستے چوک چوراہے گلال سے رنگ گئے ہیں۔دوسری طرف پہلی مرتبہ ارشاد جاگیردار کی قیادت میں ۱۰؍ سیٹ پر کامیابی حاصل کرنے والی مجلس اتحاد المسلمین پارٹی کے فاتح امیدوار، ان کے حامی بھی ڈھول تاشے اور ڈی جے بجاکر جشن منایا ہرے رنگ کے گلال سے مسلم علاقے کی سڑکیں رنگی نظر آئی ہیں۔
اہم مسلم چہرے شکست سے دوچار
کانگریس شہر صدر الحاج صابر سیٹھ کے فرزند ابولعاص، سابق ڈپٹی مئیر الحاج شوال امین کے بیٹے انصاری محمد عزیر، سابق ڈپٹی مئیر الحاج اسمٰعیل پٹھان، امین پٹیل، مظفر حسین کی والدہ عطیہ بانو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK