گرودوارہ پرمکھ بابا دھیرج سنگھ خالصہ کی موت کے بعد جانشینی کی لڑائی نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔تلوار ، لاٹھیاں اور دیگر ہتھیار سے حملہ کیا گیا۔پولیس نے حالات پرقابوپا لیا
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 11:37 PM IST | Dhule
گرودوارہ پرمکھ بابا دھیرج سنگھ خالصہ کی موت کے بعد جانشینی کی لڑائی نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔تلوار ، لاٹھیاں اور دیگر ہتھیار سے حملہ کیا گیا۔پولیس نے حالات پرقابوپا لیا
ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے پر واقع گرودوارہ میں سکھوں کے ۲؍ گروہوں میں پیر کی رات میں زبردست تصادم ہوا۔ دونوں گروہ نے تلواریں، لاٹھیاں، لوہے کی سلاخ اور دیگر ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر وار کئے جس کی وجہ سے دونوں ہی گروہ کے۸؍ سے ۱۰؍ افراد زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق رنبیر سنگھ کے حامیوں نے گیٹ کے اندر داخل ہونے والے سکھ برادران پر آگ بجھانے والے آلے سے گیس کا دھواں چھوڑاجس سے کئی افراد کی آنکھوں میں جلن ہوئی ، یہاں رات میں اچانک ہونے والی مارپیٹ سے افرا تفری مچ گئی۔ گرودوارہ میں تلواریں چلنے کی خبر موصول ہوتے ہی پولیس بڑی تعداد میں وہاں پہنچی اور مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کومزید خراب ہونے سے روک دیا۔پولیس کی بروقت کارروائی سے گرودوارہ میں حالات قابو میں آ گئے۔
واضح رہے کہ گرودوارہ پرمکھ بابا دھیرج سنگھ خالصہ پر یکم دسمبر کو گرودوارہ کے سیوک نے تلوار سے قاتلانہ لیوا حملہ کیا تھا۔ دوران علاج بابا دھیرج سنگھ نے دم توڑ دیاتھا۔ان کی موت کے بعد سے دھولیہ میں ممبئی- آگرہ نیشنل ہائی وے پر واقع گرودوارہ کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی۔اقتدار کے حصول کیلئے جاری لڑائی کی وجہ سے گرودوارہ جیسی مقدس جگہ میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ پیر کی رات میںتقریباً ۱۰؍ بجے مقامی سکھ برادران گروگووند سنگھ کی جینتی منانے گرودوارہ پہنچے لیکن بابا رنبیر سنگھ نے صدر دروازے پر قفل لگا دیا اور انہیں اندر آنے سے منع کردیا۔ رنبیر سنگھ کی اس حرکت سے سکھ برادران آپے سے باہر ہوگئے۔ مقامی سکھ برادران گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے۔ اس گروہی تصادم میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں لیکن۸؍ تا ۱۰؍ افراد کو گہرے زخم آنے کی شکایت موصول ہوئی ہے ۔
اس بابت ستیندر پال پردیپ لاڈ کی سٹی پولیس میں درج شکایتکے مطابق بابادھیرج سنگھ خالصہ کی موت کے بعد رنبیر سنگھ نے گرودوارہ کی گدی پر زبردستی قبضہ کرلیا ہے۔ مقامی سکھ برادران کے مخالفت پر رنبیر سنگھ اور ان کے حامیوں نے مقامی سکھوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اسی لئے سکھوں نے رنبیر سنگھ خالصہ کے خلاف سٹی پولیس اور موہاڈی پولیس میں شکایت درج کرائی ۔لاڈ کی شکایت کے مطابق لنگر کی تیاری کیلئے دوپہر میں مقامی سکھ سماج کے چند افراد گرودوارہ پہنچے لیکن رنبیر سنگھ کے حکم پر گیٹ کو قفل لگا دیا گیا تھا۔پولیس میں شکایت کے بعد بھی رنبیر سنگھ خالصہ اور ان کے حامی اپنی ضد پر اڑے رہے۔اسی رات میں بابابدھیرج سنگھ خالصہ کے ماننے والے ۳۰؍ تا ۳۵؍ افراد پیر کی رات میں ایک بار پھر رنبیر سنگھ سے درخواست کرنے گرودوارہ پہنچے گیٹ کھول کر انھیں اندر آنے کی درخواست کی لیکن رنبیر سنگھ کے حامیوں نے ایک نہیں سنی ۔گالم گلوچ کرنے لگے۔ یہاں تک کے گیٹ کے باہر کھڑے لوگوں پر فائر ایسٹنگیوشرسےگیس چھوڑ دی جس سے لوگوں کی آنکھوں میں بہت تیز جلن ہوئی۔اس کے بعد رنبیر سنگھ کے ساتھیوں نے یہاں موجود لوگوں پر پتھراؤ کردیا ۔
لاڈ کی شکایت پر رنبیر سنگھ خالصہ کے ہمراہ ۱۲؍ افراد کے خلاف پولیس نے کیس درج کرکے انہیں حراست میںلے لیا۔پیر کو تمام خاطیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔معزز جج نے۱۲؍افراد کو جمعرات تک پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیاہے۔ حراست میں لئے گئے افراد مدھیہ پردیش، راجستھان، پنجاب، امرتسر، فتح گڑھ کےرہنے والے ہیں۔
یاد رہےکہ گرودوارہ پرمکھ بابا دھیرج سنگھ کی موت کے بعد رنبیر سنگھ خالصہ نے گدی پر قبضہ کیا ہے جس سے یہ شک کیا جارہا ہے کہ بابا دھیرج سنگھ کے قتل میں رنبیر سنگھ کا ہی ہاتھ ہے۔ چونکہ بابا دھیرج کے قتل کی جانچ سی آئی ڈی کر رہی ہے۔گرودوارہ کی کروڑوں کی ملکیت رنبیر سنگھ کے ذریعے ہڑپنے کی شکایت ہے۔ دھیرج سنگھ کی جگہ پر ان کے بھائی داراسنگھ خالصہ کو دی جائے ، ایسا مطالبہ مقامی سکھوں نے کیا ہے۔لیکن دھرم گرووں نے رنبیر سنگھ کی اس عہدے پر تقرری کی ہے ۔گرودوارہ کو پہلی مرتبہ قفل رنبیر سنگھ کی وجہ سے لگا ہے۔
حالات پر قابو پانے کیلئے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شری کانت دھیورے نے گرودوارہ کے احاطے میں پولیس کا سخت پہرہ لگا دیا ہے ۔فی لحال گرودوارہ میں امن امان ہے۔ عقیدت مندوں کیلئے گرودوارہ کا صدر دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ سکھ برادران گرودوارہ میں آجارہے ہیں۔