تین سطحوں پر کینسر سے متعلق آگاہی، اسکریننگ اور علاج کی مہم منعقد کرنے کا وزیر صحت کا اعلان۔
وزیر صحت پرکاش ابٹکر- تصویر:آئی این این
ریاست میں ہر طرح کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سنگین معاملے پر منگل کو قانون ساز اسمبلی میں سنیل پربھو نے توجہ طلب نوٹس پیش کیاجس پر ہونے والی بحث میں متعدد اراکین اسمبلی میں حصہ لیا ۔ تقریباً ۵۰؍ منٹ تک ہونے والی اس بحث میں اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ کینسر کی فوری تشخیص کیلئے تمام سرکاری اسپتالوں میں نظم کیا جائے اور عوام میں بیداری پیدا کی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی اس کی دوائیں سستے داموں میں دستیاب کرائی جائیں اور ٹاٹا اسپتال پر بوجھ نہ ڈالتے ہوئے حکومت شہر ، تعلقہ اور ضلع کی سطح پر کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولت مہیا کرائے۔اراکین اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صحت عامہ اور خاندانی بہبود کے وزیر پرکاش ابٹکر نے یقین دلایا کہ کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولت بڑھانے کیلئے ۳؍ سطحوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی فوری تشخیص کیلئے تمام سرکاری اسپتالوں میں اسکریننگ کی جارہی ہے۔ پرکاش ابٹکرنے کہاکہ اسکریننگ کیلئے شہریوں میں بیداری پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت کینسر کی جانچ کیلئے ۸؍ گشتی گاڑیاں ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور تمام اضلاع میں گاڑیاں دستیاب کرائی جائیں گی۔ خواتین میں چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ پر زور دیا جا رہا ہے اور اس کے تحت ۳؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ خواتین کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔
رکن اسمبلی سنیل پر سبزیوں میں استعمال کئے جانے والے کیمیکلزسے پیٹ کے کینسرپر تشویش کا اظہار کیا اور کینسر کی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے توجہ طلب نوٹس پیش کیا تھا ۔ اس نوٹس پر ہونے والی بحث میں اراکین امین پٹیل، رئیس شیخ، بابا صاحب دیشمکھ، بھاسکر جادھو، راجکمار بدولے، شیکھر نکم، دلیپ(ماما) لانڈے، تمل سیلون، سمیر کنور، کشور پاٹل، سولھا کھوڈکے، دیویانی فراندے وغیرہ نے حصہ لیا۔وزیر صحت نے اس کی تصدیق کی کہ جو ہپل اور سبزیوںکو جلدی تیار کرنے کیلئے کیمیکل کااستعمال ہوتا ہے اس سے پیٹ کا کینسر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو، سگریٹ نوشی، شراب اور دیگر مضر اشیا کے استعمال سے بھی کینسر ہو تا ہے۔رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ ’’ ممبئی میں واقع ٹاٹا اسپتال میں علاج کیلئے ریاست ملک سے مریض آتے ہیں لیکن یہاں محدود سہولتیں ہونے کے سبب علاج میں کافی تاخیر لگ ہو رہی ہے۔دوسری جانب سر جے جےگروپ آف ہاسپٹل میں کینسر کے علاج کیلئے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ بی ایم سی کی جانب سے بھی میونسپل اسپتالوں میںعدم دلچسپی کا مظاہرہ کیاجارہا ہے۔ نائر اسپتال کےاحاطے میں کینسر یونٹ تعمیر تو ہو رہا ہے لیکن اب تک درکار اسٹاف کا تقرر نہیں کیاگیا ہےجس سے علاج کی سہولت میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس بارےمیں ضروری اقدام کئے جانے چاہئے۔‘‘
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بھی بھیونڈی اور ایم ایم ریجن میں کینسر کے علاج کی سہولت مہیا کرانے کا مطالبہ کیا ۔ صحت عامہ اور خاندانی بہبود کے وزیر پرکاش ابٹکرنے ممبئی اور بھیونڈی کے معاملے میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی صدارت میں متعلقین کے ساتھ میٹنگ منعقد کرنے کا یقین دلایا۔ اس سلسلے میںصحت عامہ اور خاندانی بہبود کے وزیر پرکاش ابٹکر مزید معلومات دیتے ہوئے کہا کہ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کی حکومتی پالیسی کے مطابق ۳؍سطحوں یعنی تعلقہ، ضلع اور ریاستی سطح پر کینسر کے علاج کے طریقوں کو لاگو کرکے بیداری، جانچ اور علاج پر زور دیا جا رہا ہے۔