اہل خانہ نے انصاف اور خاطیوں کےخلاف کارروائی کی مانگ کی۔ وسیم خان زائد از ۲؍ ماہ زیر علاج رہے۔
جلگاؤں میں وسیم خان کی تدفین عمل میں آئی-تصویر:آئی این این
جلگائوں کے مہرون میں رہنےو الے وسیم خان شفاعت خان جو ممبئی کے کے ای ایم اسپتال میں زیر علاج تھے، کا دوران علاج انتقال ہوگیا ۔وسیم خان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ اور اعزہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ مرحوم کی لاش جب ممبئی سے جلگائوں لائی جارہی تھی تو راستے میں بھڑگائوں پولیس اسٹیشن پر روک کروسیم خان کو مارنے پیٹنے والے کلیدی ملزم اور بقیہ خاطیوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔بھڑگائوں پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر کےآئندہ ۲؍دنوں میں مزید کارروائی کے وعدہ پر لاش جلگائوں لے جائی گئی جہاں تدفین عمل میں آئی ہے۔
۲۸؍ نومبر کی صبح بھوٹکے پھاٹے پروسیم خان اور اُن کے ساتھی کوخاتون سے مبینہ چھڑ خانی کا الزام عائد کر کے دس تا پندرہ افراد کی بھیڑ نے بُری طرح پیٹا تھا۔ پولیس نے وسیم خان اور اُن کے ساتھی کوہجوم کے چنگل سے چھڑا کر سرکاری اسپتال پہنچایا جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں پاچورہ اور پھر جلگائوں کے نجی اسپتال میں داخل گیا۔ اس سلسلے میں بھڑگائوں پولیس اسٹیشن میںمقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں چند افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی ۔ اہل خانہ کے الزام کے مطابق وسیم خان کے سرمیں قریب ۱۵؍ ایم ایم تک خون جم گیا تھا جس کی وجہ سے سرجری کی گئی مگر افاقہ نہ ہونے پر ممبئی میں منتقل کیاگیا مگر زائد از دو ماہ کے علاج کے بعد وسیم نے دوران علاج دم توڑ دیا ۔