• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر کالج نمازکمیٹی ۳۷؍ سال سے افطارو تراویح کا نظم کررہی ہے

Updated: February 25, 2026, 10:00 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

تقریباً ۶۰۰؍روزہ داروںکیلئےکھانےکا بھی انتظام کیا جاتاہے،جن میں ۹۰؍فیصد اطراف کے علاقوں کے مزدور ہوتےہیں۔

Iftar At Maharashtra College.Photo:INN
مہاراشٹر کالج میں افطار کا نظم۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کالج نماز کمیٹی کی جانب سے رمضان المبارک میں گزشتہ ۳۷؍ برسوںسے افطاری اور تراویح کا اہتمام کیا جا رہاہے ۔ ۱۹۹۱ءمیں سابق پرنسپل ڈاکٹر اےاے منشی نےیہ مہم شروع کی تھی۔ ۱۵۰؍ روپے سے مہم کاآغاز ہواتھا۔ اب افطاری کےساتھ تقریباً ۶۰۰؍روزہ داروںکیلئےکھانےکا بھی انتظام کیا جاتاہےجن میں ۹۰؍فیصد اطراف کے علاقوں کے مزدور ہوتےہیں۔
مہاراشٹر کالج نمازکمیٹی کے چیئرمین سید عارف اکبر کےمطابق’’ ۱۹۹۱ءمیں کالج کا ایک نومسلم طالب علم رمضان المبارک میں بیمار ہوگیاتھا جسے علاج کیلئے کالج احاطہ میں واقع انجمن خیر الاسلام دواخانےمیں داخل کیاگیاتھا۔ اس کی دیکھ بھال پر مامور طالب علموں کیلئے اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر اے اے منشی نےاپنی جانب سے افطاری کا انتظام کیا تھا اور خود اسپتال میں انہیںافطاری پہنچائی تھی ۔ ان کی اس خدمت سےمتاثرہوکر کالج کے طلباء نے اسی سال سے رمضان المبارک میںافطاری کانظم کرناشروع کیاتھا،جو اب بھی جاری ہے۔
 
 
سید عارف کےبقول ’’ ۱۹۹۱ءمیں رمضان المبارک میں ایک نومسلم طالب علم کےاچانک بیمار ہونے پر اسے علاج کیلئے کالج میں واقع انجمن خیرالاسلام کے دواخانے میں داخل کیا گیا تھا۔اس کی تیمارداری کرنےوالے طلباکیلئے اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹراےاے منشی نے افطاری کا انتظام کیاتھا۔ اسی دور سے کالج میں افطاری اورتراویح کانظم کیاجارہاہے۔ کالج کے سابق طلباء اس میں حصہ لیتےہیں۔تقریباً ۱۰۰؍ طلباء ہیں جن کے مالی تعاون سے یہ مہم جاری ہے۔‘‘ایک سوال کےجواب میںانہوںنے بتایاکہ ’’ یہاں افطاری کیلئے آنےوالے ۹۰؍ فیصد روزہ داروں کاتعلق مزدور طبقے سے ہوتاہے۔ ہم افطاری کے ساتھ انہیں کھانا بھی دیتےہیں ۔ اس کےبعد مغرب کی نماز پڑھائی جاتی ہے۔ بعد ازیں عشاء کی نمازاور تراویح کااہتمام کیاجاتاہے۔ ‘‘    
 
 
انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’ یہ پورا نظم کالج کے سابق طلبہ کی مالی مدد سےکیاجاتاہے۔ یہ ضرور ہے کہ اگر باہر کے لوگ بھی اس میںشامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کرتےہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اب ۶۰۰؍افراد کی افطاری اور کھانےپر تقریباً ۲۲؍لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ افطاری میں سبھی قسم کے پھلوں کے ساتھ نمکین پکوان اور شربت کاانتظام ہوتاہے ۔ کھانےمیں عموماً بریانی ، جمعہ کو دال گوشت اور چاول کاانتظام کیاجاتاہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK