Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیا مرزا نے مودی کے ویڈیو پیغام پر سوال اٹھایا، امول پالیکر کا طلبہ کے نام خط

Updated: July 24, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ ویڈیو پیغام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ردعمل بہت دیر سے آیا اور اس میں متاثرہ طلبہ اور والدین کے لیے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب معروف اداکار اور فلمساز امول پالیکر نے طلبہ کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے ان کی جدوجہد کو سراہا اور ضرورت پڑنے پر قانونی، طبی اور مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

Amol Palekar and Dia Mirza. Photo: INN
امول پالیکر اوردیا مرزا۔ تصویر: آئی این این

نیٹ (NEET) کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے دوران بالی ووڈ کی دو مزید معروف شخصیات نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اداکارہ دیا مرزا نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ ویڈیو پیغام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بہت تاخیر سے آیا، جبکہ سینئر اداکار اور فلم ساز امول پالیکر نے طلبہ کے نام ایک جذباتی کھلا خط لکھ کر ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ دیا مرزا نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں کہا کہ وزیراعظم کے خطاب میں ان والدین کا کوئی ذکر نہیں تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا، نہ ان طلبہ کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا جو کئی ہفتوں سے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، اور نہ ہی سماجی کارکن سونم وانگچک اور بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کے بارے میں کوئی ہمدردانہ بات کی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’۴۷؍ دن بعد آپ نے کچھ کہا، لیکن ایسا کچھ نہیں کہا جو لاکھوں ٹوٹے ہوئے دلوں کو سکون دے سکے۔‘‘

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Dia Mirza Rekhi (@diamirzaofficial)

 دیا مرزا کا یہ ردعمل وزیراعظم مودی کے اس ویڈیو پیغام کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے پرچہ لیک کے خلاف مزید سخت قانون، فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اداکارہ کا کہنا تھا کہ صرف قانونی اعلانات کافی نہیں بلکہ متاثرہ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے دکھ کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھلاپتی وجے کی ’’جنا نائیگن‘‘ نے پہلے دن ہندوستان میں ۴۱؍ کروڑ روپے کی کمائی

ادھر تجربہ کار اداکار اور فلم ساز امول پالیکر نے طلبہ کے نام اپنے کھلے خط میں ان کی جمہوری جدوجہد کو سراہتے ہوئے لکھا کہ جب سوالوں کا جواب لاٹھیوں سے دیا جائے تو ریاست کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی طالب علم کو احتجاج کے دوران قانونی، طبی یا مالی مدد کی ضرورت پڑی تو وہ اور ان کی اہلیہ سندھیا پالیکر ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ امول پالیکر نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر احتجاج میں شریک نہیں ہوئے، لیکن وہ طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں اور ان کی پرامن جدوجہد کو آئینی و جمہوری اقدار کے تحفظ کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے کا احترام ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی شرط ہے اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: گووندا نے سات سال بعد نئی فلم ’’روپا‘‘ کے ساتھ واپسی کا اعلان کر دیا

یہ دونوں بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنتر منتر پر جاری احتجاج کو متعدد فلمی شخصیات، ادیبوں، سماجی کارکنوں اور اپوزیشن لیڈروں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امتحانی نظام میں اصلاحات، پرچہ لیک کے خلاف سخت قانون سازی اور دیگر اقدامات کے ذریعے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ احتجاجی قیادت اپنے مطالبات پر بدستور قائم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK