Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی اور شیوسینا (شندے)کے درمیان اختلافات عروج پر

Updated: March 25, 2026, 12:02 AM IST | Mumbai

ایکناتھ شندے کی پارٹی کو شکایت ہے کہ بی جے پی اس کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے ، پارٹی کے وزراء استعفیٰ دینے تک پر آمادہ ہیں، تنازع مزید بڑھنے کا امکان

Devendra Fadnavis and Eknath Shinde: Trust between allies is waning (File)
دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے: اتحادیوں کے درمیان اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے(فائل)

ایک طرف مہاراشٹر اسمبلی میں بجٹ سیشن جاری ہے تو دوسری طرف برسراقتدار مہایوتی کی بنیادی حلیف بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان رسہ کشی اور زور آزمائی ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ شیوسینا (شندے) کے کئی وزراء اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر آمادہ ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی انہیں جان بوجھ کر کنارے لگانے کی کوشش کر رہی ہے اور خاص کر مقامی سطح پر پارٹی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ بی جے پی کی جاب سے ان الزامات کی تردید کی جا رہی ہے اور دونوں پارٹیوں کے اعلیٰ لیڈران اس تعلق سے گفتگو کر رہے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر فوری طور پر مفاہمت کیلئے اقدام نہیں کئے گئے تو یہ تنازع اور بڑھ سکتا ہے۔ 
 ۲۰۲۴ء کے اسمبلی الیکشن میں مہایوتی کو غیر معمولی اکثریت حاصل ہوئی اور بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اس کے بعد سے بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے۔ میونسپل اور کارپویشن الیکشن بھی دونوں پارٹیوں نے علاحدہ لڑے تھے لیکن ضلع پریشد الیکشن کے بعد دونوں کے اختلافات دشمنی میں بدلنے لگے کیونکہ بی جے پی نے کئی اضلاع میںشندے گروپ کے ساتھ مخالفین جیسا برتائو کیا۔ شیوسینا( شندے) کا الزام ہے کہ بی جے پی ان کے ساتھ دوم درجے کا برتائو کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کا کہناہے کہ بطور اتحادی شندے گروپ قابل اعتماد نہیں ہے۔
 یہ معاملہ ایسے شروع ہوا کہ پربھنی ضلع پریشد الیکشن میں شیوسینا (شندے) اس پوزیشن میں تھی کہ وہ اقتدار حاصل کرلے لیکن بی جے پی نے عین موقع پر این سی پی ( اجیت) سے ہاتھ ملا کر وہاں صدر اور نائب صدر کے عہدے پر قبضہ کر لیا۔ شندے گروپ کو لگا کہ وہ یہ بازی جیت نہیں پائیں گے اس لئے انہوں نے الیکشن کے عمل کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے باہر نکل گئے۔ نتیجتاً بی جے پی کو بلامقابلہ دونوں عہدے مل گئے۔ یہیں سے دونوں پارٹیوں میں اختلافات میں شدت آ گئی۔ شیوسینا (شندے) نے بی جے پی پر پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا الزام لگایا تو بی جے پی نے کہا کہ شندے گروپ ایک عہدے کیلئے اتحادی پارٹیوں پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔ 
 ایسا ہی کچھ اورنگ آباد میں بھی نظر آیا جہاں ضلع پریشد الیکشن میں بی جے پی اور شیوسینا( شندے) ہی سب سے بڑی پارٹیاں تھیں۔ دونوں میں اس بات پر گفتگو جاری تھی کہ ڈھائی ۔ ڈھائی سال کیلئے باری باری دونوں پارٹی کے پاس ضلع پریشد کے صدر کا عہدہ رہے گا۔ لیکن بات یہاں آکر رکی کہ پہلے ڈھائی سال اس عہدے پر کون سی پارٹی کا امیدوار بیٹھے گا؟جب اختلاف طول کھینچنے لگا تو بی جے پی نے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر خود صدر اور نائب صدر کا عہدہ حاصل کر لیا۔  
 ستارا میں تو نوبت مار پیٹ تک پہنچ گئی تھی۔ یہاں شیوسینا (شندے) سب سے بڑی پارٹی تھی۔ صدر کے عہدے کیلئے ۳۳؍ اراکین کی ضرورت تھی لیکن بی جے پی نے شندے گروپ کا ساتھ دینےکے بجائے خود یہ عہدہ حاصل کر لیا۔یہاں این سی پی (اجیت) شیو سینا (شندے) کا ساتھ دینے کیلئے تیار تھی لیکن بی جے پی نے دیگر اراکین کے ساتھ اقتدار کو باقاعدہ ہتھیا لیا۔ اس دوران ستارا میں شیوسینا اور این سی پی کارکنان نے خوب ہنگامہ مچایا۔ پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ بھی ہوئی۔ حتیٰ کہ شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے وزیر شمبھو راج دیسائی کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی۔ اس پر ودھان پریشد میں بھی ہنگامہ ہوا اور ضلع ایس پی کو معطل کرنےکا حکم دیاگیا۔ 
 اس تنازع کے بعد ایکناتھ شندے نے اپنے اراکین اسمبلی کی میٹنگ بلوائی جس میں تمام اراکین نے بی جے پی کی شکایت کی اور شمبھو راج دیسائی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو ہمیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔  وہاں موجود تمام اراکین نے شمبھو راج دیسائی کی مکمل حمایت کی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایکناتھ شندے اچانک بجٹ سیشن چھوڑ کر دہلی روانہ ہوئے تھے جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔ ان کے بعد دیویندر فرنویس نے بھی دہلی کا دورہ کیا تھا اور وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۴ء اسمبلی الیکشن کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کئی بار دہلی گئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بار کسی نہ کسی تنازع کے سبب ہی انہیں وہاں طلب کیا گیا تھا۔ اس وقت دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات بالکل عروج پر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایکناتھ شندے آگے کون سا اقدام کرتے ہیں۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK