Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنٹا وائرس سے متاثر کروز جہاز اسپین کی بندرگاہ ٹینیرائف پہنچ گیا، انخلا کا آغاز

Updated: May 10, 2026, 9:06 PM IST | Madrid

ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز جہاز اسپین کی بندرگاہ ٹینیرائف پہنچ گیا، جس کے بعد اس میں موجود مسافروں کا انخلا شروع ہو گیا، اس سے قبل تین مسافر نیلے رنگ کے نایاب اینڈیز ہنٹا وائرس سے انتقال کرگئے تھے۔

Dutch-flagged ship MV Hondius. Photo: X
ڈچ پرچم والا بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس۔ تصویر: ایکس

ڈچ پرچم والا بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس ٹینیرائف کے قریب پہنچ گیا، اس سے قبل تین مسافراس  ہنٹا وائرس سے انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام کی نگرانی میں سخت کنٹرول والا انخلا شروع کیا گیا۔ صحت کے حکام جہاز پر سوار ہوئے اور حتمی جانچ پڑتال کے بعد مسافروں کو اتارنے کا عمل شروع کیا۔سرکاری حکام کے مطابق، مسافروں کے پہلے گروپ (جو اسپینی شہری ہیں) کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحل تک لایا جائے گا اور فوری طور پر بند بسوں میں منتقل کرکے مقامی ہوائی اڈے پر بھیجا جائے گا، جہاں سے وہ اسپین کی سرکاری طیارے کے ذریعے میڈرڈ واپس جائیں گے۔ حکام نے زور دے کر کہا کہ ان کا عام شہریوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوگا۔ دریں اثناء یہ کروز جہاز اسپین کے کینری جزائر اتوار کو پہنچا، جہاں جہاز پر سوار تقریباً۱۵۰؍ میں سے زیادہ تر مسافروں کو ہفتوں کے بحری سفر کے بعد انخلا کے ذریعے وطن واپس بھیجا جائے گا۔صحافیوں کے مطابق، ڈچ پرچم والا بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس سول گارڈ کے جہاز کی حفاظت میں اسپین کی بندرگاہ گریناڈیلا پہنچا۔توقع ہے کہ مسافر اور عملے کے کچھ افراد جہاز سے انخلا کرلیں گے، اس سے پہلے کہ یہ جہاز (جہاں ہنٹا وائرس کی وبا سے تین افراد ہلاک ہوئے) نیدرلینڈز کے لیے اپنا سفر جاری رکھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سوویت عوام نے نازی ازم کی شکست میں بہتر کردار ادا کیا اور دنیا کو نجات دلائی‘‘

واضح رہے کہ جہاز کے تین مسافر جن میں ایک ڈچ شوہر اور بیوی اور ایک جرمن خاتون، شامل ہیں اس بیماری سے انتقال کرچکے ہیں، جبکہ دیگر بیمار ہوگئے ۔ یہ نایاب بیماری عام طور پر چوہوں میں پھیلتی ہے۔ہنٹا وائرس کی واحد قسم جو انسان سے انسان میں منتقل ہوسکتی ہے (اینڈیز وائرس) ان لوگوں میں تصدیق شدہ ہے جو ٹیسٹ میں مثبت پائے گئے، جس سے بین الاقوامی تشویش بڑھ گئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کی وبا اور وبائی امراض کی روک تھام کی ڈائریکٹر ماریا وین کرخوف نے بتایا کہ انہوں نے جہاز پر موجود ہر شخص کو ہائی رسک رابطہ قرار دیا۔جبکہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادانوم گیبریئسس، جو سنیچر کو اسپین پہنچے تھے اور توقع ہے کہ وہ جہاز کے انخلاء کی نگرانی کریں گے، نے ٹینیرائف کے لوگوں کا ان کی یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مہینوں جاری رہے، تب بھی ایران کو فرق نہیں پڑے گا: سی آئی اے رپورٹ

اتوار کی صبح بندرگاہ گریناڈیلا ڈی ابونا پر صحافیوں نے دیکھا کہ گھاٹ کے ساتھ سفید خیمے لگائے گئے تھے اور پولیس نے بندرگاہ کے حصے کو محفوظ کرلیا تھا۔اس سنگین صورتحال کے باوجود روزمرہ کی زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق تھی، اور  لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف نظر آئے۔مقامی حکام نے جہاز کو گودی میں لگنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس کے بجائے، یہ ساحل سے دور رہے گا جبکہ اتوار اور پیر کے درمیان مسافروں کی اسکریننگ اور انخلا کیا جائے گا۔ڈبلیو ایچ او نے جمعہ کو کہا کہ اس نے آٹھ مشتبہ معاملات میں سے چھ کی تصدیق کردی ہے۔ جہاز پر اب کوئی مشتبہ کیس نہیں ہے۔بعد ازاں وزیر داخلہ نے کہا، ’’تمام علاقے جن سے (مسافر) گزریں گے، بند کردیئے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کے گرد سمندری پابندی نافذ رہے گی۔ ذہن نشین رہے کہ ایم وی ہونڈیئس نےایک اپریل کو ارجنٹائن کے شہر اوشوایا سے بحر اوقیانوس کے پار کیپ وردے کیلئے سفر کا آغاز  کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK