کاپیاں نہ ملنےسےآن لائن پڑھائی کرنے والے طلبہ کو دشواریاں

Updated: July 02, 2020, 10:09 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

میونسپل اسکولوںمیں آن لائن پڑھائی کا سلسلہ تو شروع کردیا گیاہے لیکن بدانتظامی کی وجہ سے کاپیوں کا انتظام اب تک نہیں ہوسکا ہے۔اعلیٰ افسر کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاپیاں ملنے میں تاخیر ہورہی ہیں

Online Education - PIC : INN
آن لائن تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

 لاک ڈائون کےسبب بی ایم سی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے  طلبہ کو تعلیمی نقصان سے بچانے کیلئے آناًفاناً  آن لائن پڑھائی توشروع کر دی مگر وہ طلبہ کیلئے کاپیوںکا انتظام کرنابھول گئی۔ دوسری جانب لاک ڈائون سے مالی طورپرپریشان حال والدین اپنے بچوںکو کاپیاں دلانے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے پاس بنیادی ضروریات کیلئے پیسےنہیں ہیں۔کاپیوں کے نہ ہونے  سے بچوںکا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے ۔اعلیٰ میونسپل افسر کے مطابق  لاک ڈائون کی وجہ سے کاپیوں کی ڈیلیوری ملنےمیں تاخیر ہورہی ہے لیکن جلد ازجلد بچوںکو کاپیاں دی جائیں گی۔
غریب والدین کو دشواریوں کا سامنا
 اس بارے میں ساکی ناکہ کے محمد اسماعیل شیخ نے انقلاب کو بتایاکہ ’’میرے ۳؍بچے ہیں ۔ ایک بیٹی ایس ایس سی میں،  بیٹا ۸؍ویں اور چھوٹا والا بیٹا پہلی جماعت میں ہے۔ میں کڑیاکا کام کرتاتھا لیکن ایک دن کام کے دوران گرنے سے کمرمیںآنے والی چوٹ کی وجہ سےاب میں  کام نہیں کرسکتاہوں۔ اس لئے صبح ۵؍تا۹؍بجے تک دودھ کی ڈیلیوری کرنےکا کام کررہاہوں جس سے مجھے ماہانہ ۴؍ہزارروپے ملتےہیں۔ اس کے علاوہ کوئی ہلکا پھلکا کام ملتا ہےتوکرلیتاہوں ۔اس معمولی سی رقم میں بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ہی مشکل ہے۔ ایسےمیں بچوں کی تعلیمی ضروریات کیسے پوری ہوسکتی ہے ۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ’’ بی ایم سی کی جانب سے ملنے والی ۲۷؍تعلیمی اشیاء سے راحت مل جاتی ہے مگر امسال صرف کتابیں ملی ہیں جبکہ آ ن لائن پڑھائی کا سلسلہ ۱۵؍جون سے جاری ہے ۔ بچے کاپی نہ ہونےکی شکایت کرتےہیں۔ تینوں بچوںکی کاپیوں کیلئے ایک ہزار ۵۰؍روپے درکار ہے  اور اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنامیرے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کبھی ایک بچےکوتو کبھی دوسرے بچے کو ۲،۲؍کاپیاں لا کر دے رہا ہوں۔ ‘‘
 بائیکلہ ،رانی باغ کے قریب واقع بی ایم سی اردو اسکول کے ایک معلم نے بتایاکہ ‘’ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی بدنظمی سے طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی پریشان ہیں۔ گزشتہ سال بھی کاپیاں نہیں ملی تھی۔امسال بھی کاپیاں ملیں گی یا نہیں ، کچھ پتہ نہیں۔ بی ایم سی کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھاکہ تعلیمی اشیاء کیلئے طلبہ کے بینک اکائونٹ میں براہ راست نقد رقم منتقل کی جائے گی لہٰذا تمام طلبہ کا بینک اکائونٹ کھولا جائے ۔ اسکول انتظامیہ نے تمام تر جدوجہد کےبعد طلبہ کا بینک اکائونٹ تو کھول دیامگر ابھی تک ان کے اکائونٹ میں ایک پیسہ نہیں ڈالاگیاہے۔ فی الحال جو صورتحال ہے ، اس میں اگر طلبہ کے بینک اکائونٹ میں پیسہ ڈال دیاجاتاتو ان کیلئے کتنی سہولت ہوتی۔ کاپیاں  نہ ہونے سے پڑھائی کا نقصان ہورہاہے ۔‘‘
 وکھرولی کے ایک پرائیویٹ اسکول کے معلم نے کہاکہ ’’بی ایم سی اسکولوں سے قطع نظر پرائیویٹ اسکولوں کےطلبہ کے والدین بھی مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ہم طلبہ سے کہہ رہےہیں کہ وہ پرانی کاپیوںمیں ہی فی الحال کام کریں تاکہ اسکول شروع ہونے پر نئی کاپیاں خریدی جائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ اس وقت نئے سرے سے پڑھائی شروع کی جائےگی۔ایسے بھی والدین  ہیں جو مالی دشواریوں کے سبب بچوں کوکاپیاں نہیں دلاپارہے ہیں۔‘‘
  امام باڑہ میونسپل اردو اسکول کے ایک معلم نے کہاکہ ’’ کاپیوںکا مسئلہ ہمارے بچوںکے ساتھ بھی ہےلیکن ہم نے بچوںسے اپیل کی ہے کہ وہ گزشتہ سال کی کاپیاں یا جن کاپیوںمیں خالی صفحات ہیں فی الحال انہیںاستعمال کریں ۔ کچھ دنو ں میں بی ایم سی کی جانب سے کاپیاں ملے گی ،ایسا سناگیا ہے۔‘‘ 
 دنڈوشی کے ایک اسکول کے معلم نے کہاکہ ’’ ایک تو آن لائن پڑھائی ہی  دردِسر ہے۔متعدد پریشانیوں کے بعد کچھ بچے یکجا ہوتےہیں۔برائے نام پڑھائی ہورہی ہے ۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ بھی خانہ پُری چاہتاہے، سو ہورہا ہے لیکن کاپیوں کے نہ ہونے سے پریشانی ہورہی ہے۔ ‘‘
’اساتذہ اپنا بھی احتساب کریں ‘
  اس ضمن میں  ایک مشہور اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ ’’اساتذہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ہر حال میںطلبہ کو پڑھائیں لہٰذا معمولی کمیوں کو اُجاگر کرکے انتظامیہ کو نشانہ بنانے کےبجائے اپنا بھی احتساب ضروری ہے۔ انتظامیہ ہمیں اچھی خاصی تنخواہ دے رہاہے۔ گزشتہ ۳؍مہینے سے ہم گھر بیٹھ کر تنخواہ بھی تو لے رہے ہیں۔اگر کلاس کے کچھ بچوںکے پاس کاپیاں نہیں ہیں یا وہ کاپیاں نہیں خرید سکتے ہیں تو کیا ہم  ان کیلئے کاپیوں کا انتظام نہیں کرسکتے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK