متبادل نظم کئے بغیر ریلوے گیٹ بند کرنے سے دشواری

Updated: September 25, 2021, 7:43 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

باندرہ لیول کراسنگ گیٹ نمبر ۱۹؍ مستقل طور پربند کردیا گیا، گیٹ بند کئےجانے سے راہ گیروں اورمیت لانے میں شدید دشواریاں یہاں سے سیکڑوںگاڑیاں بھی گزرتی تھیں۔مقامی لوگوںنے پی ایم اواوردیگر سیاسی لیڈران کوپیغام بھیجااورآندولن کا انتباہ دیا

Level Crossing Gate No. 19 in Bandra has been closed due to which people are facing difficulties.Picture:Inquilab
باندرہ میں واقع لیول کراسنگ گیٹ نمبر۱۹؍ کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دشواریوںکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تصویر انقلاب

یہاں مشرق سے مغرب کو جوڑنے اور ہزاروںلوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ لیول کراسنگ گیٹ نمبر ۱۹؍ کوویسٹرن ریلوے انتظامیہ نےبند کردیا ہے جس سے خاص طور پر نوپاڑہ کے مکینوں کو آمدورفت اورمیت لانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پہلے کچھ پابندیاں لگائی گئی تھیں اورریلو ے کی جانب سے گیٹ کھولنے اوربند رکھنے کے لئے اوقات متعین کردیئے گئے تھے لیکن اب گیٹ پوری طرح سے بند کردیا گیا ہے۔ اب  مقامی لوگوں کے لئے گیٹ نمبر ۱۸؍ ہی ایک راستہ ہے لیکن ٹرینوںکے گزرنے کے دوران جب یہ بھی بند کر دیاجاتا ہے تو مسائل مزیدبڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ کوئی متبادل نظم کیاجائے اورجب تک متبادل نظم نہ ہوجائےاس وقت تک گیٹ کھلا رکھا جائے۔ اس کےعلاوہ ناراض  مقامی لوگ اس کے خلاف احتجاج کی بھی تیاری کررہےہیں۔ 
پریشانی لوگوں کی زبانی 
 سابق کارپوریٹروشنواوول نے گیٹ بند کئےجانے کے تعلق سے کہا کہ ’’ آخر لوگ کہاں سے آئیں   جائیںگے ، کسی ایمرجنسی اور اسپتال جانے یا میت کوشمشان گھاٹ اورقبرستان لانے میںبھی دشواری ہوتی ہےلیکن ریلوے کو اس کا کوئی خیال ہی نہیںہے۔ اس لئے اگریہ مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو ریل روکو آندولن کیاجائے گا۔‘‘ ڈاکٹر مشتاق احمدنے بتایاکہ ’’ راہ گیروں اورگاڑیوں کے علاوہ میت لانے میںکافی دشواری ہورہی ہے۔ جہاںتک ریلوے کا یہ کہنا ہے کہ میت لانے اورلازمی خدمات کیلئے استعمال کی جانے والی گاڑیوں کےلئے اجازت ہے تویہ غلط بیانی کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ انہوںنے یہ بتائی کہ اس وقت نوپاڑہ قبرستان کے سامنے ریلوے کاکام چل رہا ہے لیکن ریلوے کےٹرک اوردیگرگاڑیاں گیٹ نمبر ۱۸؍ سےگزاری جا رہی ہیں۔اگرگیٹ نمبر۱۹؍لازمی خدمات کےلئے واقعی کھولا جارہا ہے توپھرریلوے کے ٹرکوں اوردیگرگاڑیوں کو گزارنے کی اجازت کیوںنہیں ہے؟‘‘
 ایڈوکیٹ عادل کھتری نے کہا کہ ’’ دراصل ریلوے انتظامیہ شہریوں کے حقوق سلب کررہا ہے اور زبردستی گیٹ بند کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ پہلےمتبادل نظم کیاجائے پھرکسی چیز کوبند کیا جائے ۔‘‘ انہوںنے مقامی سیاست دانوں پربھی تنقید کی ا ورکہاکہ ’’ان کی جانب سے محض زبانی تسلی دی جارہی ہے ، عملی طورپرکچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ اسی سبب لوگ پریشان ہیں۔ ‘‘
گیٹ کھولنے کیلئےپی ایم او  سے شکایت 
 اس مسئلےپر آوازبلند کرنے میںپیش پیش رہنے والے محمد صدیق تاراپور والا نے بتایاکہ ’’ریلوے کی جانب سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور عوام کی سہولت چھینی جارہی ہے البتہ شوٹنگ کے لئے گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔نوپاڑہ میں جو عوامی پُل ہے وہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہے اور وہاں سے صرف پیدل ہی گزرا جا سکتا ہے ۔ اس لئے ریلوے کو راستہ بند کرنے سے پہلے فٹ اوور  بریج یا فلائی اووربریج بنانا چاہئے لیکن کچھ بھی نہیںکیاگیا اورگیٹ بند کردیا گیا۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ گیٹ بند ہونے سے گاڑی والوں کو ہائی وے سےہوکر مشرق سے مغرب جاناہوتا ہے اورسب سے اہم مسئلہ یہ کہ میت لانے ، مریضوں کو اسپتال لے جانے کیلئے پریشانیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ ‘‘ محمدصدیق تاراپور والانے یہ بھی بتایاکہ  انہوںنے اس مسئلے پردفتر وزیراعظم(پی ایم او) ، مرکزی وزیرریل ، ریاستی وزیراعلیٰ، اراکین اسمبلی اشیش شیلار، ذیشان بابا صدیقی، ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ کو بھی ٹویٹ کے ذریعے پیغام بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیٹ کھلوانے اورعوام کی پریشانی دور کرنے کے لئے اپنا تعاون دیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK