Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ڈجیٹل نشہ۲۰؍ ہزار بچوں کی موت کا سبب بن رہا ہے‘‘

Updated: March 28, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi

راجیہ سبھا میں  ڈیرک او برائن نے متنبہ کیا کہ بچے اور نوجوان یومیہ ۸-۸؍ گھنٹہ موبائل فون پر گزارتے ہیں۔

Digital addiction is becoming a major problem. Photo: INN
ڈجیٹل نشہ اہم مسئلہ بنتا جارہاہے۔ تصویر: آئی این این

بچوں اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل نشہ(موبائل، ٹیب یا لیپ ٹاپ سے چپکے رہنے کی لت) کےمسئلے پر جمعہ کو راجیہ سبھا میں  ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں  نے خبردار کیا کہ اس کی وجہ سے ہر سال تقریباً ۲۰؍ہزار بچے خودکشی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی طرف فوری توجہ دے۔ ’وقفہ صفر‘ میں  اس معاملہ کو اٹھاتے ہوئے ڈیرک نے کہا کہ جو مطالعات سامنے آئے ہیں  ان کے مطابق بچے اور نوجوان روزانہ ۸-۸؍ گھنٹے موبائل فون یااسکرین پر گزارتے ہیں جو سالانہ ۱۰۰؍ دن سے زیادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۳۹؍ اراکین اسمبلی اشوک کھرات سے ملا کرتے تھے

ڈیرک او برائن نے کہا کہ’’اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال نیند کے نظام کو متاثر کرتا ہے، بے چینی کے خطرے کو بڑھاتا ہے اور موڈ میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتا ہے۔ ‘‘ ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے عملی تجاویز بھی پیش کیں، جیسے فون اٹھانے سے پہلے خود سے سوال کرنا کہ کیوں اٹھا رہے ہیں، اسے چھونے سے پہلے ۱۰؍ تک گننا، آلات کو علاحدہ کمرہ میں  چارج کرنااور سونے سے کم از کم ۲؍گھنٹے پہلے اسکرین سے پرہیز کرنا شامل ہے۔ انہوں  نے مشورہ دیا کہ دن میں  کچھ وقت اسکرین یا فون کے استعمال کے بغیر ہونا چاہئے جسے انہوں  نے ’’خاموشی کی آواز‘‘ نام دیا۔ حکومت سے انہوں  نے آف لائن سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK