Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۹؍ اراکین اسمبلی اشوک کھرات سے ملا کرتے تھے

Updated: March 27, 2026, 10:41 PM IST | Nashik

سابق وزیر تعلیم دیپک کیسرکرنے شکایت کی کہ’’ اتنے لوگ کھرات کے پاس جایاکرتے تھے لیکن صرف میرا نام اچھالا جا رہا ہے‘‘

It is alleged that Deepak Kesarkar had a deep devotion to Ashok Kharat (File photo)
الزام ہے کہ دیپک کیسرکر کو اشوک کھرات سےگہری عقیدت تھی (فائل فو)

 حال ہی میں خواتین کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کئے گئے خود ساختہ بابا اشوک کھرات کے سبب کئی سیاسی شخصیات سوالات کے گھیرے میں ہیں۔ خاص کر سابق ریاستی وزیر تعلیم دیپک کیسر کر جن کے تعلق سے کہا جا رہا ہے انہی کی ایما پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندےناسک میں واقع اس مندر میں گئے تھے جسکا انتظام اشوک کھرات کے ٹرسٹ کے ہاتھ میں ہے۔اپوزیشن کی جانب سے کیسرکر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اب کیسرکر نے اس معاملے میں لب کشائی کی ہے لیکن اپنا دفاع کرنے کی کوشش میں یہ راز بھی کھول دیا کہ اسمبلی کے ۳۹؍ اراکین اشوک کھرات کے پاس جایا کرتے تھے لیکن دانستہ طور پر صرف انہی کا نام اچھالا جا رہا ہے ۔  
 یاد رہے کہ جعلساز بابا اشوک کھرات کے خلاف ناسک کی ایک خاتون نے جنسی زیادتی کی شکایت درج کروائی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ اشوک کھرات کے مہاراشٹر کے کئی بڑے لیڈران اور افسران سے گہرے تعلقات تھے۔ مبینہ طور پر ان میں سب سے زیادہ وہ دیپک کیسرکر کے قریب تھا۔ کیسرکر کھرات کی شیونکا ٹرسٹ کے ذریعے تعمیر کئے گئے مندر میں جایا کرتے تھے۔ کہا جاتاہے کہ ایکناتھ شندے جب وزیر اعلیٰ تھے تو کیسرکر ہی انہیں لے کر مذکورہ مندر گئے تھے جہاں انہوں نے پوجا کی تھی۔ شندے کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔ اس کے بعد سے اپوزیشن کیسرکر کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دیپک کیسر کرنے طویل خاموشی کے بعد اپنے دفاع میں میڈیا کو بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ میں ایک شیو بھکت ہوں۔ میں بلا ناغہ شرڈی آتا ہوں۔ چونکہ ایشانیشور مندر ( اشوک کھرات کا بنایا ہوا) شرڈی کے راستے میں پڑتا ہے لہٰذا وہاں بھی جانا ہوتا ہے۔ وہیں ان سے ملاقات ہوئی اور پہچان ہو گئی۔ پہچان ہوجانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں ان کے جرم میں شریک ہوں۔‘‘ سابق وزیر نے کہا ’’اگر انہیں بچانے کیلئے میں ایک فون بھی کیا ہو تو میں قصور وار ہوں لیکن میرا تو کہنا یہ ہے کہ انہیں ان کے جرم کی سزا ملنی چاہئے۔ میرا یہ واضح موقف ہے۔‘‘  
 سوال یہ ہے کہ اتنے سال کی جان پہچان میں دیپک کیسرکر کو یہ کیسے سمجھ میں نہیں آیا کہ اشوک کھرات  ایک جعلساز ہے اور غلط کاموں میں ملوث ہے؟ اس سوال کے جواب میں کیسرکر نے کہا ’’ یہی تو بد قسمتی ہے کہ میں وزیر ہوتے ہوئے بھی وہاں گیا۔ میرے ساتھ پولیس بھی رہتی تھی۔ پولیس کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو وہ مجھے ضرور بتاتے۔ ‘‘ کیسرکر کے مطابق ’’ ان ( کھرات) کے بھکتوں میں کئی ٹیچرس بھی تھے جن کیلئے میں نےکافی کام کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آپ نے تعلیم کیلئے جتنا کام کیا ہے اتنا کسی اور وزیر نے نہیں کیا۔ اگر ان لوگوں کو بھی اس کا اندازہ ہوتا تو وہ مجھے ضرور خبردار کرتے ۔  
 الزام ہے کہ اشوک کھرات اگھوری پوجا( کالا جادو) کیا کرتا تھا۔ اس پر کیسر کر نے کہا ’’مجھے اس کی معلومات نہیں ہو سکتی کیونکہ میں ان سے اتنا قریب نہیں تھا۔ میں نے صرف ایشانیشور مندر میں ایک مرتبہ پوجا کی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کبھی ان کے ذریعے کوئی پوجا نہیں کی۔ صرف کسی سے جان پہچان کی بنا پر کچھ بولنا ٹھیک نہیں ہے۔ ‘‘ سابق وزیر نے دعویٰ کیا کہ ’’ اتنے لوگ ان سے مل کر گئے۔ ۳۹؍ اراکین اسمبلی ان کے پاس جاتے تھے لیکن صرف میرا ہی نام لیا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں؟ یہ اہم سوال ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK