• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو ڈیجیٹل شناختی کارڈ جاری کئےجائیں گے

Updated: February 20, 2026, 3:52 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

پولیس افسر بن کر لوگوں کو ٹھگنے کے معاملات پر قدغن لگانے کیلئے جدید تکنیک سے کارڈ بنائے جارہے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شہر اور مضافات میں اکثر راہگیروں یا تاجروں کو جعلی پولیس والا بن کر، کبھی جھانسہ دے کر تو کبھی دھمکی دے کر ان کا قیمتی سامان، زیوارات یا نقد لوٹ کر ملزمین فرار ہوجایا کرتے ہیں۔ جعلی پولیس والا بن کر مجرمانہ سرگرمی انجام دینے والے ایسے مجرمانہ ذہینت کے حامل ملزمین پر قدغن لگانے اور شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ممبئی پولیس نے سبھی پولیس افسران و اہلکاروں کو ڈیجیٹل آئی کارڈ (شناختی کارڈ) فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 
پولیس والا بن کر لوگوں کو جھانسہ دینے اور لوٹنے والوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے سینئر پولیس افسران بشمول جوائنٹ کمشنر آف پولیس ایس جئے کمار اور ایڈیشنل کمشنر شیلیش بلکواڑے کے ہمراہ تبادلہ خیال کرنے کے بعد سبھی پولیس افسران و اہلکاروں کو نیا ڈیجیٹل آئی کارڈ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ڈیجیٹل آئی کارڈ میں وائرلیس چپ ہوگی جس کی مدد سے بذات خود پولیس افسر یا اہلکار اپنے نزدیکی پولیس اسٹیشن میں وائرلیس کی مدد سے بات کرکے اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ دیگر شخص اصلی پولیس اہلکار ہے یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تھانے : خصوصی اقدام کے ذریعہ ٹی ایم ٹی کی آمدنی میں اضافہ

نئے شناختی کارڈ میں پولیس افسر و اہلکار کی ایمبوس کی ہوئی تصویر یعنی ابھری ہوئی تصویر لگائی جائے گی اس کے علاوہ اس آئی کارڈ پر کیو آر کوڈ دستیاب ہوگا جسے اسکین کرکے پولیس والا ہونے کی تصدیق باآسانی کی جاسکے گی۔ یہ شناختی کارڈ ممبئی پولیس کے سبھی پولیس افسران و اہلکاروں کو دیا جائے گا۔ 
ایک سینئر پولیس افسر کے بقول اب تک جعلی پولیس والا بن کر ملزمین اکثر بزرگوں، راہگیروں یا تاجروں کو اپنا شکار بناتے تھے۔ وہیں متاثرین کو پولیس اس سلسلہ میں قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرنے کو کہتی تھی۔ اب ڈیجیٹل آئی کارڈ بننے پرنہ صرف ہر پولیس افسر و اہلکاروں کو شناختی کارڈ رکھنا لازمی ہوگا بلکہ شبہ ہونے پر کوئی بھی شہری اسی آئی کارڈ پر دیئے گئے کیو آر کوڈ یا وائرلیس چپ کی مدد سے فوری تصدیق کر سکے گا۔ آفیسر کے بقول دو ماہ کے درمیان یہ کارڈ بن کر تیار ہوجائیں گے۔ 
تاہم اس کارڈ کو بنانے کیلئے جس مٹریل کا استعمال کیا گیا ہے اور جو چپ اور کیو آر کورڈ کا سسٹم شامل کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے ان کارڈ کا ڈپلی کیٹ یا نقل نہیں بنائی جاسکے گی۔ اس کارڈ کو میٹل آئی کارڈ کا نام دیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK