ٹی ایم ٹی کے پاس ۴۰۷؍ بسیں ہیں جن میں سے ۳۸۰؍ بسیں روزانہ مسافروں کی خدمات میں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بسیں شہر کے مختلف علاقوں میں دوڑتی ہیں اور ان بسوں کے روزانہ ۵؍ ہزار ۹۶۰؍ پھیرے لگتے ہیں جن میں تقریباً ۲؍ لاکھ ۴۵؍ ہزار مسافر سفر کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 3:50 PM IST | Mumbai
ٹی ایم ٹی کے پاس ۴۰۷؍ بسیں ہیں جن میں سے ۳۸۰؍ بسیں روزانہ مسافروں کی خدمات میں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بسیں شہر کے مختلف علاقوں میں دوڑتی ہیں اور ان بسوں کے روزانہ ۵؍ ہزار ۹۶۰؍ پھیرے لگتے ہیں جن میں تقریباً ۲؍ لاکھ ۴۵؍ ہزار مسافر سفر کرتے ہیں۔
تھانے میونسپل ٹرانسپورٹ (ٹی ایم ٹی) نے خواتین، طلبہ اور بوڑھوں کو اپنی بسوں میں رعایت دینے کے باوجود کچھ اہم اقدام کے ذریعہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اپنی روزانہ آمدنی ۲۳؍ لاکھ روپے سے بڑھا کر ۳۰؍ لاکھ روپے کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ٹی ایم ٹی کے پاس ۴۰۷؍ بسیں ہیں جن میں سے ۳۸۰؍ بسیں روزانہ مسافروں کی خدمات میں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بسیں شہر کے مختلف علاقوں میں دوڑتی ہیں اور ان بسوں کے روزانہ ۵؍ ہزار ۹۶۰؍ پھیرے لگتے ہیں جن میں تقریباً ۲؍ لاکھ ۴۵؍ ہزار مسافر سفر کرتے ہیں۔ چند برس قبل تک ٹی ایم ٹی کو روزانہ ۲۶؍ سے ۲۸؍ لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔ البتہ ٹی ایم ٹی کی خدمات نہ منافع نہ نقصان کی پالیسی پر چلائی جاتی ہیں۔ ان بسوں میں طلبہ، خواتین، معذوروں اور بزرگ شہریوں کو بھی رعایت دی جاتی ہے۔ ۱۵؍ مارچ ۲۰۲۴ء سے خواتین کو ۵۰؍ فیصد رعایت اور معمر شہریوں کو مفت سفر کی سہولت دی جانے لگی۔ اس اسکیم کے شروع کرنے کے بعد ٹی ایم ٹی کی آمدنی کم ہوکر ۲۲؍ سے ۲۳؍ لاکھ روپے یومیہ پہنچ گئی اوران کے اخراجات اور آمدنی میں فرق ہونے کی وجہ سے نقصان ہورہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ملئے، حافظ مولانا رشید احمد ندوی سے جو ۴۶؍ سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں
اس کے پیش نظر ٹی ایم ٹی کے افسران نے اندرونی طور پر سروے کیا اور یہ پتہ لگایا گیا کہ مسافروں کی تعداد کن علاقوں میں کم اور کہاں زیادہ ہے۔ ٹی ایم ٹی کے منیجر بھالچندر بیہیرے کے مطابق مطالعہ کے بعد جن علاقوں میں مسافروں کی تعداد کم ہے، وہاں بسوں کی تعداد کم کردی گئی اور ان بسوں کو ان علاقوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بھیڑ بھاڑ زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کی گئی جس کے تحت ان سے جرمانہ وصول کیا گیا اور مسافروں میں ٹکٹ خرید کر سفر کرنے کے تعلق سے بیداری پیدا کی جارہی ہے جس سے ان کی آمدنی دوبارہ بڑھ کر تقریباً ۳۰؍ لاکھ روپےیومیہ تک پہنچ گئی ہے۔