Updated: October 05, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
بِٹ چیٹ کے شریک بانی جیک ڈورسی نے ۳ اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایپل کا نوٹس شیئر کیا جس میں ہندوستانی وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کے ایک حکومتی حکم کے بعد ملک میں ایپل کے ایپ اسٹور سے بِٹ چیٹ کو ہٹائے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔ نوٹس میں ایپل نے ”ہندوستان میں غیر قانونی“ مواد کا حوالہ دیا تھا۔ یہ ایپ گوگل پلے پر بھی دستیاب نہیں رہی ہے، جبکہ اس کی ویب سائٹ بھی متعدد انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان (ISPs) پر ناقابلِ رسائی ہے۔
سافٹ ویئر فریڈم لاء سینٹر، انڈیا (ایس ایف ایل سی) اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) نے ملک میں میسجنگ ایپ بِٹ چیٹ (BitChat) پر حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی کی مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے بلاکنگ آرڈر کو عوامی سطح پر لائے بغیر اور ڈویلپرز کو سماعت کا موقع دیئے بغیر آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ ۶۹ الف کا استعمال کیا ہے۔
بِٹ چیٹ کے شریک بانی جیک ڈورسی نے ۳ اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایپل کا ایک نوٹس شیئر کیا جس میں ہندوستانی وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کے حکم کے بعد ملک میں ایپل کے ایپ اسٹور سے بِٹ چیٹ کو ہٹائے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔ نوٹس میں ایپل نے ”ہندوستان میں غیر قانونی“ مواد کا حوالہ دیا تھا۔ یہ ایپ گوگل پلے پر بھی دستیاب نہیں رہی ہے، جبکہ اس کی ویب سائٹ بھی متعدد انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان (ISPs) پر ناقابلِ رسائی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی امتحان میں بے ضابطگیوں کیخلاف زبردست احتجاج
واضح رہے کہ بِٹ چیٹ ایک غیر مرکزی، پیئر ٹو پیئر ایپ ہے جو انٹرنیٹ تک رسائی کے بغیر بلوٹوتھ میش نیٹ ورکس کے ذریعے خفیہ (انکرپٹڈ) مواصلات کو ممکن بناتی ہے۔ ایس ایف ایل سی اور آئی ایف ایف نے کہا کہ اس صلاحیت نے ایپ کو انٹرنیٹ کی بندش کے دوران انتہائی اہم بنا دیا تھا۔ آئی ایف ایف نے نشان دہی "کی کہ ہندوستان کے سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے قبل ازیں انٹرنیٹ بندش کے دوران کھوج لگانے کی صلاحیت (ٹریس ایبلٹی) سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بِٹ چیٹ اور اسی طرح کی ایپس کے حوالے سے گٹ ہب، گوگل اور ایپل کو نوٹس جاری کئے تھے (جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا تھا)۔
ایس ایف ایل سی نے کہا کہ یہ پابندی دفعہ ۶۹ الف کے تحت طریقہ کار کے نقائص کو بے نقاب کرتی ہے۔ گروپ نے نوٹ کیا کہ نوٹسز عام طور پر مواد کے تخلیق کاروں کے بجائے ثالثی اداروں (انٹرمیڈیریز) کو بھیجے جاتے ہیں اور رازداری کے قواعد متاثرہ فریقوں کو بلاکنگ احکامات کو چیلنج کرنے سے روکتے ہیں جو سپریم کورٹ کے ۲۰۱۵ء کے شریا سنگھل فیصلے میں برقرار رکھی گئی حفاظتی شقوں کے برعکس ہے۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ ۲ اکتوبر کو جنتر منتر پر انٹرنیٹ کی بندش کے فوراً بعد اس پابندی کا وقت انٹرنیٹ بندش کے خلاف مزاحمت کرنے والے مواصلاتی ٹولز کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کا ”مضبوط اشارہ“ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہروں کو روکنے کیلئے۵؍ہزار جوانوں کی تعیناتی بھی کم پڑگئی
دونوں گروپس نے مطالبہ کیا کہ MeitY بلاکنگ کا حکم نامہ شائع کرے، لاگو کی گئی دفعات ظاہر کرے اور ڈویلپرز کو جواب دینے کا موقع فراہم کرے۔ ایس ایف ایل سی، جس کا اس سے متعلق ایک آئینی چیلنج سپریم کورٹ میں زیرِ التواء ہے، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ہدایات واپس لے۔ اس نے ایپل سے مطالبہ کیا کہ وہ میکانیکی انداز میں تعمیل کرنے کے بجائے اس حکم کو چیلنج کرے۔