• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے: ایم پی ایس سی امتحان میں بے ضابطگیوں کیخلاف زبردست احتجاج

Updated: October 05, 2026, 12:17 PM IST | Inquilab News Network | Pune

ایس ایم جوشی پل، لال بہادر شاستری روڈ، اہلیا ابھیاسیکا کے قریب اور تلک چوک/الکا چوک پر ۳؍ گروپوں کی جانب سے احتجاج لیکن تینوں کے مطالبات مختلف۔ سیاسی لیڈران بھی شامل ہوئے۔

MPSC aspirants are protesting in an area of ​​Pune by switching on the flashlights of their mobile phones. Photo: PTI
پونے کے ایک علاقے میں ایم پی ایس سی کے امیدوار موبائل فون کی فلیش لائٹ جلاکر احتجاج کررہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

شہر میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) امتحان میںبے ضابطگیوں کے  خلاف ۳؍ گروپ زبردست احتجاج  کررہے ہیں۔ اور ہر ایک مختلف مطالبات کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ جہاں ایک گروپ  آبجیکٹیو (ایم سی کیو) پیٹرن کی  واپسی کا مطالبہ کر رہا ہےتو  دوسرا گروپ چاہتا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں متعارف کرایا گیا  ڈِسکرپٹیو پیٹرن جاری رکھا جائے۔  تیسرے گروپ نے ایم ایل اے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) لیڈر روہت پوار کی حمایت سے احتجاج کرتے ہوئے ایم پی ایس سی چیئرمین وویک بھیمنور کے استعفیٰ کو اپنا کلیدی مطالبہ بنایا ہے۔تینوں گروپ فی الحال ایس ایم جوشی پل، لال بہادر شاستری روڈ، اہلیا ابھیاسیکا کے قریب، اور تلک چوک/الکا چوک پر احتجاج کر رہے ہیں۔۳۰؍ ستمبر کو امیدواروں کے ایک وفد کی وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس سے ملاقات کے بعد اختلافات مزید واضح ہو گئے جس کے بعد احتجاج کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیاتھا اور بعد میں دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:وزیراعلیٰ ٹی وی کے نے ’انڈیا اتحاد‘ کا ہاتھ تھاما، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بڑے احتجاج کی تیاری

ایک گروپ کا مطالبہ

ایم پی ایس سی  کے چیئرمین بھیمنور کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والا گروپ۷۰؍ ہزار عہدوں پر بھرتی، امیدواروں سے مشاورت کے بعد صاف ستھری شبیہ والے نئے چیئرمین کے تقرر، تمام ایم پی ایس سی امتحانات کے آف لائن انعقاد اور مختلف امتحانات میں   بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے راجستھان طرز کے نظام کا بھی مطالبہ کیا ہے جس کے تحت امیدوار ۱۰۰؍ روپےکے امتحانی کارڈ کے ذریعے سال بھر امتحانات میں شرکت کر سکتے ہیں۔

احتجاج میں شامل ہونے والے روہت پوار   نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ، کوچنگ کلاس آپریٹرز اور ٹیلی گرام چینل کے منتظمین کو نوٹس جاری کرکے اور دھمکیاں دے کر طلبہ کے احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ا نہوں نے کہاکہ ’’ہم آپ کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ایسے ہتھکنڈوں میں ملوث ہونے کے بجائے  بدعنوان چیئرمین بھیمنوار کو ہٹا دیں۔انہوں نے ایم پی ایس سی سیکریٹری مہندر ہرپالکر کے تبادلے کا بھی خیرمقدم کیا  لیکن کہا کہ بھیمنوار کی برطرفی کا بنیادی مطالبہ برقرار ہے۔ روہت پوار نے کہاکہ ’’ایم پی ایس سی سیکریٹری مہندر ہرپالکر کا تبادلہ طلبہ کے اتحاد کی جیت ہے۔‘‘

دوسرے گروپ کا مطالبہ کیا ہے؟

لال بہادر شاستری روڈ پر اہلیا ابھیاسیکا کے قریب طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایم پی ایس سی   کا امتحان  پہلے کی طرح آبجیکٹیو اکزامیشن پیٹرن  پر لیا جائے۔ ان کا احتجاج    بنیادی طور پر ایم پی ایس سی چیئرمین کا استعفیٰ مانگنے کے بجائے ’ایم سی کیو‘ فارمیٹ کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔

طلبہ کے نمائندے نتن اندھالے نے کہاکہ ’’تقریباً ۹۰؍فیصد طلبہ آبجیکٹیوپیٹرن کے حق میں ہیں۔ پہلے امتحان نے ہی یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایم پی ایس سی  کے پاس ڈِسکرپٹیو پیٹرن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کیلئے ضروری طریقہ کار نہیں ہے۔ اس لئے آبجیکٹیوپیٹرن کو دوبارہ متعارف کرایا جانا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ستیہ گرہ پلیٹ فارم: ۲۴؍گھنٹے میں ۲۵؍ہزار۵۵؍ احتجاجی آوازیں درج

تیسرا گروپ کیا مطالبہ کررہا ہے؟

  تلک چوک پر احتجاج کرنے والے طلبہ آبجیکٹیو فارمیٹ کی واپسی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ۲۰۲۵ء میں متعارف کرایا گیا  ڈِسکرپٹیو اکزامیشن پیٹرن جاری رہے۔ اس گروپ نے کہا ہے کہ اسے کمیشن پر اعتماد ہے اور وہ امتحانی نظام میں بار بار تبدیلیوں کے خلاف ہے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سیاسی مداخلت کے ذریعہ پیٹرن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الکا چوک میں احتجاج کی قیادت کر نے والے  اجیناتھ کیدار نے کہاکہ ’’طلبہ  نے گزشتہ ۲؍ سال ڈِسکرپٹیو اکزامیشن پیٹرن کی تیاری میں گزارے ہیں۔ اس مرحلے پر اسے تبدیل کرنے سے امیدوار  اپنی تیاری دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ان  کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے جو وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔‘‘

 احتجاج میں سیاسی لیڈران کی شرکت

مظاہروں میں سیاسی شمولیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روہت پوار ایس ایم جوشی بریج پر احتجاج میں شامل ہوئے ہیں  جبکہ این سی پی (شردپوار) کی رکن پارلیمان  سپریہ سلے، کانگریس  کے رکن اسمبلی  وشواجیت کدم اور دیگر مقامی سیاسی لیڈروں نے احتجاجی مقام کا دورہ کیا ہے۔وزیر دھننجے منڈے نے بھی لال بہادر شاستری روڈ پر  دورہ کیا اوراحتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کی۔ اس دوران ایس ایم جوشی پل پر مظاہرین کو پولیس کےنوٹس جاری کردیئے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK