شملہ مرچ کی درآمدکے تعلق سےایران اور روس کے درمیان تنازع

Updated: January 20, 2022, 11:30 AM IST | Agency | Tehran

روس نے گزشتہ دنوں ایران سے درآمد ہونے والی شملہ مرچ واپس کر دی تھی، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس معاملے پر گفتگو کی

Capsicum is also called sweet pepper in Iran.Picture:INN
شملہ مرچ کو ایران میں میٹھی مرچ بھی کہا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

  ایسا لگتا ہے کہ  شملہ مرچ   اور دیگر  فصلوں کی درآمد کا معاملہ  ماسکو اور تہران کے درمیان تجارتی تعلقات میں خلل ڈال رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لارؤف سے   منگل کو فون پر گفتگو کی تاکہ ایران کی زرعی اجناس روس کو روس بھیجنے کا   سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔  اطلاع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایک فون کال میں ایرانی صدر کے آئندہ دورہ ماسکو اور روس سے ایرانی کالی مرچ کی ترسیل کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔گزشتہ دسمبر میں روس نے ایرانی میٹھی مرچ( شملہ مرچ)  کی بڑی کھیپ واپس کی تھی اور ایرانی حکام نے اس کی وجہ نائٹریٹ اور بھاری دھاتوں پر مشتمل انتہائی خطرناک کیڑے مار ادویات کے استعمال  بتایا تھا، جس کے منفی اثرات زرعی فصلوں پر باقی رہتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے  خطرہ ہیں۔  ذرائع  کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے روس کو شملہ مرچوں کی برآمد کے مسئلے کے حل میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ  روسی وزیر خارجہ نے اس مسئلے کو ’تکنیکی‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ معاہدوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زرعی اشیا کی درآمد اور برآمد قدرتی طور پر ہوتی ہے۔  ایران سے میٹھی مرچ کی درآمد کے مسئلے کو حل کرنے  کیلئے دونوں ممالک کے متعلقہ فریق آپس میں ہم آہنگی پیدا کریں گے اور معاملہ طے ہو جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ روس کو ایران کی برآمدات ۸۰؍ فیصد حصہ زرعی اشیا پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سال ایران نے روس کو 22 ملین ڈالر مالیت کی شملہ مرچیں برآمد کی تھیں۔گزشتہ چند دنوں میں آذربائیجان نے اعلان کیا کہ اس نے ہرپس وائرس سے آلودہ ہونے کی وجہ سے ایران سے درآمد کی گئی شملہ مرچ کی بڑی کھیپ کو مستقل طور پر ٹھکانے لگا دیا ہے۔ آذربائیجان کی فوڈ سیکوریٹی آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطا بق ۳؍ آذربائیجانی کمپنیوں نے گزشتہ نومبر سے اب تک ایران سے تقریباً ۲۶؍ ٹن میٹھی مرچ الگ سے درآمد کی ہے۔ درآمد شدہ مرچ کےبعد ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ تمام کھیپ وائرس سے متاثر تھی۔ اس کی وجہ سے اسے ضائع کرکے نئی شملہ مرچ منگوانی پڑی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK