• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سبحان اللہ! گیارہویں، بارہویں کی تعلیم بھی اور تکمیل ِ حفظ بھی

Updated: January 09, 2026, 11:38 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Bhiwandi

حفظ مکمل کرنے والے یہ حفاظ طلبہ صنعتی شہر بھیونڈی کے صمدیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئرکالج کے طالب علم ہیں اور عصری تعلیم میں بھی نمایاں ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
عصری علوم کے ساتھ قرآن کریم حفظ کرنے کاشوق طلبہ میںپروان چڑھ رہا ہے۔ ایسے طلبہ بھی حاملین ِ قرآن میں شامل ہورہے ہیں جو ایک جانب سائنس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں تو دوسری طرف قرآن کریم بھی حفظ کرلیا ہے۔ایسے طلباء میںشامل ہیں بھیونڈی کے صمدیہ ہائی اسکول  اینڈ جونیئر کالج میں زیر تعلیم حافظ خان ابودردا محمد الیاس اور حافظ ذوالکفل محمد خالد۔ نمائندۂ انقلاب نے ان طلباء سے چند جگہ سے قرآن کریم سن کر اطمینان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم کیا کہ عصری علوم کے ساتھ قرآن کریم حفظ کرنے کا شوق انہیںکس طرح ہوا۔ 
حافظ ذوالکفل ،۱۲؍ویں جماعت کے طالب ہیں۔ ان کے والد محمدخالد بھی عالم ،حافظ  اور ہندوستانی مسجد میں شعبۂ حفظ کےاستاذ ہیں۔ انہوں نے ہی حافظ ذوالکفل کو پڑھایا اور۱۵؍ دن قبل قرآن کریم مکمل ہوا ہے ۔ کس طرح حفظ قرآن کریم کا شوق ہوا؟ اس پران کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ خود حافظ قرآن ہیں اور اکثر و بیشتر تلاوت کیا کرتے ہیں،گھر کاماحول بھی دینی ہے اس لئے اہل خانہ کی خواہش تھی اور خود ذوالکفل نے بھی اس جانب توجہ دی ،اس طرح تین برس کےعرصے میںقرآن کریم مکمل ہوگیا۔ 
حفظ اور اسکول کے لئے حافظ ذوالکفل کی ترتیب یہ ہوتی تھی کہ صبح کے وقت اسکول کی تعلیم اور ظہر تا عصر حفظ کی تعلیم۔اس کےبعد عصر تا مغرب تفریح اورچہل قدمی پھرمغرب تا عشاء حفظ کا سبق یاد کرنے کا اہتمام ،عشاء بعد اسکول کا ہوم ورک وغیرہ۔ 
دوسرے طالب علم حافظ ابودردا نے اپنے بارے میں بتایا کہ کچھ وقت ان کے اہل خانہ چیتا کیمپ میں مقیم رہے، گھر پروالدحافظ محمد الیاس کے پاس حفظ شروع کیا ،اس کےبعد مدرسہ معراج العلوم (چیتا کیمپ) میںچند پارے پڑھے، اس کےبعد معاش کے لئے اہل خانہ بھیونڈی آگئے، یہاں انہوں نے صمدیہ ہائی اسکول میںداخلہ لینے کے ساتھ مدرسہ سراج العلوم میںحفظ کے لئے داخلہ لیا اور قاری بدرعالم کے پاس حفظ مکمل کیا اور دَور بھی کیا۔ تکمیل حفظ کی مدت کا دورانیہ کم و بیش ڈھائی سال رہا۔ اس وقت وہ گیارہویں جماعت میں زیرتعلیم ہیں اور دَورکرنے کاسلسلہ بھی جاری رکھےہوئے ہیں۔ 
  صمدیہ ہائی اسکول کے پرنسپل ساجد صدیقی نے دونوں طلباء کے تکمیل حفظ کے تعلق سے بتایاکہ’’ چونکہ یہ دونوں طلباء بیک وقت عصری اوردینی دونوں علوم حاصل کررہے تھے، اس لئے ادارے کی جانب سے نظام الاوقات کے تعلق سے خاص خیال رکھا گیا، اسکول میں حاضری کےتعلق سے کچھ رعایت بھی دی گئی تاکہ انہیں سہولت ہومگر تعلیم متاثر نہ ہو۔اس کا نتیجہ یہ رہا کہ دونوں کامیاب ہوگئے۔ ان کے تکمیلِ حفظ پر منتظمین ِ ادارہ خوش ہیں۔ان دونوں کی یہ کارکردگی اسی اسکول کے دیگر طلباء کے لئے باعث ِ ترغیب بھی ہے۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK