مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان فوڈ بزنس یعنی ہوٹلوں اور ریستورانوں کیلئے لائسنس جاری کرنے اور معائنہ کی کارروائی کے اختیارات پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 10:43 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان فوڈ بزنس یعنی ہوٹلوں اور ریستورانوں کیلئے لائسنس جاری کرنے اور معائنہ کی کارروائی کے اختیارات پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان فوڈ بزنس یعنی ہوٹلوں اور ریستورانوں کیلئے لائسنس جاری کرنے اور معائنہ کی کارروائی کے اختیارات پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ ایف ڈی اے نے مرکزی فوڈ سیکوریٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) پرنئے ضوابط جاری کرکے اس کے اختیارات کم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے ایف ایس ایس اے آئی کے کچھ اصولوں اور احکامات کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت، مہاراشٹر ایف ڈی اے کے پاس ریاست میں کھانے کے کاروبار کے معائنہ اور لائسنسنگ سے متعلق مختلف اختیارات ہیں، تاہم، ایف ڈی اے کا الزام ہے کہ ایف ایس ایس اے آئی نے نئے قواعد و ضوابط کے ذریعے ان اختیارات کو غصب کرنے کی کوشش کی ہے۔
ریاستی حکومت نے ایف ایس ایس اے آئی کی طرف سے جاری کردہ۱۲؍ مئی ۲۰۲۳ء کے فرمان پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ یہ فرمان ریاستی فوڈ سیفٹی افسران کو مرکزی لائسنس یافتہ کاروباروں کا معائنہ کرنے سے روکتا ہے یا اس پر پابندی لگاتا ہے۔ ریاست کا استدلال ہے کہ اس کے عہدیداروں کو فوڈ سیفٹی معائنہ کے لئے ضروری اختیارات دیئے جانے چاہئیں۔
ریاستی حکومت نے ایف او ایس سی او ایس( فوس کوس) نامی آن لائن پورٹل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس پورٹل کو فوڈ بزنس رجسٹریشن اور لائسنسنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ اس نظام نے لائسنسنگ کا کنٹرول مرکزی حکومت کو منتقل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیہااحتجاج کے حق پر اٹل، پولیس پر سوال
لائسنسنگ قوانین میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟
ایف ایس ایس اے آئی آرڈر کے مطابق یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے مؤثر، سالانہ کاروبار کی بنیاد پر ہوٹلوں کیلئے لائسنسنگ کے قوانین کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ۱ء۵؍ کروڑ کے کاروبارتک رجسٹریشن کرنا ہوگا۔ ۱ء۵؍ کروڑ سے زیادہ ۵۰؍ کروڑ کے کاروبار کیلئے ریاستی لائسنس کی ضرورت ہوگی اور۵۰؍ کروڑ سے زائد کے کاروبار کیلئےمرکزی لائسنس درکار ہوگا۔
ہائی کورٹ سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر حکومت نے عدالت سے تین بڑے مطالبات کئے ہیں۔ سب سے پہلے جو قواعد غیر آئینی قرار دیے گئے ہیں ان کو منسوخ کیا جائے۔ دوسرا، مئی ۲۰۲۳ء کا حکم پر جس سے متعلق ریاستی حکام کے تفتیشی اختیارات کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، روک لگا دی جائے۔ تیسرا لائسنس سے متعلق ڈیٹا متعلقہ ریاستی حکام کو واپس کیاجائے۔ اس معاملے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ فوڈ بزنس کی جانچ اور لائسنس جاری کرنے یا منسوخ کرنےکے اختیارات مرکز اور ریاست کے درمیان کیسے تقسیم ہوں۔