• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منی پور میں مسلح گروہوں کے ساتھ امن معاہدہ خطرہ میں، کیمپوں پر کارروائی

Updated: October 25, 2026, 11:07 AM IST | Manipur

معاہدہ کے تحت مسلح گروہوں  کے اراکین کو مخصوص کیمپوں  میں  رہنا ہےمگر تلاشی میں  جس کیمپ میں ۱۵۹؍ افراد کو ہوناچاہئے تھاوہاں ایک ہی ملا۔

Manipur has been burning since 2023. Image: INN
منی پور ۲۰۲۳ء سے جل رہاہے۔ تصویر: آئی این این

منی پور جہاں  اگست ۲۰۲۳ء سے جاری نسلی تشدد پر قابو پانے میں  ناکامی کی وجہ سے مودی سرکار تنقیدوں  کی زد پر ہے، میں اب کوکی-زو مسلح گروہوں کے ساتھ حکومت کے امن معاہدہ پر عمل درآمد کے حوالہ سےبھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ 
کانگ پوکپی ضلع کے سِنائی کیمپ میں سیکوریٹی فورسیز کی جانچ کے دوران معاہدہ کے تحت درج۱۵۹؍مسلح اراکین میں سے صرف ایک رکن موجود ملا۔ باقی۱۵۸؍کہاں ہیں، اس بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔ حکام ان کے ٹھکانوں کی تصدیق کررہے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران کیمپ میں ۱۷؍ایسے افراد بھی ملے جن کی شناخت معاہدہ کے تحت رجسٹرڈ اراکین کے طور پر نہیں ہوسکی۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سیکوریٹی فورسیز نے کیمپ سے۲۴؍آتشیں ہتھیار، ۳۸؍ میگزین، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور وائرلیس آلات بھی ضبط کئے ہیں۔ اس معاملے کے بعد حکام نے ریاست کے تمام ۱۴؍ نامزد کیمپوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی اور شندے سینا میرے خلاف محاذ قائم کر سکتی ہے‘‘

دراصل، مرکزی حکومت، منی پور حکومت اور کوکی-زو مسلح گروہوں کے درمیان اگست۲۰۰۸ءمیں ’سسپنشن آف آپریشنز‘ (ایس او او) معاہدہ ہوا تھا۔ اس کا مقصد مسلح کارروائیاں روکنا اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا تھا۔ معاہدہ کے تحت مسلح گروہوں کے اراکین کو مخصوص کیمپوں میں رہنا، تشدد سے گریز کرنا اور اپنے ہتھیار طے شدہ حفاظتی انتظامات کے تحت رکھنا تھا۔ منی پور میں میتی اور کوکی-زو برادریوں کے درمیان کشیدگی میں  اضافہ کے بعد۱۹؍اکتوبر کو نونگشوم کے قریب میتی برادری کے ۳؍افراد کی ہلاکت کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ اسی سلسلے میں  سِنائی کیمپ میں کارروائی کی گئی تو چونکا دینےوالی صورتحال سامنے آئی ہے۔ میتی تنظیمیں پہلے سے ہی ان کیمپوں کو بند کرنے یا ان کی جگہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ منی پور میں مئی۲۰۲۳ءسے جاری نسلی تنازع کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور لوگوں کی نقل مکانی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں مسلح گروہوں کے ساتھ امن معاہدہ پر عمل درآمد کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد تشدد پر قابو پانا اور سیاسی مذاکرات کیلئے ماحول تیار کرنا ہے۔ 
سِنائی کیمپ میں درج ارکان کی بڑی تعداد کی غیر موجودگی اور غیر رجسٹرڈ افراد کی گرفتاری نے معاہدے کی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ تاہم، فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ غیر حاضر ارکان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے یا وہ کسی پرتشدد سرگرمی میں ملوث ہیں۔ حکام کی تحقیقات سے ہی واضح ہوسکے گا کہ وہ کہاں ہیں اور کیمپ میں غیر رجسٹرڈ افراد اور ہتھیاروں کی موجودگی کے پیچھے کیا معاملہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK