مجسٹریٹ کورٹ میں حاضر ہوئیں مگر بانڈ پر دستخط نہیں کیا،تفصیل مانگی کہ احتجاج سےنقض اَمن کا خطرہ کیسے ؟، ۲۹؍ اکتوبرتک جواب دیں گی۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 9:56 AM IST | New Delhi
مجسٹریٹ کورٹ میں حاضر ہوئیں مگر بانڈ پر دستخط نہیں کیا،تفصیل مانگی کہ احتجاج سےنقض اَمن کا خطرہ کیسے ؟، ۲۹؍ اکتوبرتک جواب دیں گی۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر اور طلبہ لیڈر نیہا بورا،امن برقرار رکھنے کے نام پر جاریکئے گئے نوٹس کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد سنیچرکو مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں واقع اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کی عدالت میں پیش ہوئیں لیکن انہوںنے اس دوران کسی بھی طرح کے امن بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ ان ہیںان کے خلاف جاری انکوائری کے دستاویز دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق فراہم کردئیے گئے جس کے بعد اب اس معاملے میںاگلی سماعت ۲۹؍ اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔
آئیسا کے مطابق ۲۲؍ اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ میں نیہا کو جاری کئے گئے وجہ بتاؤ نوٹس کے معاملے پر سماعت ہوئی تھی۔ یہ نوٹس امن و امان میں خلل پڑنے کے خدشہ کی بنیاد پر احتیاطی کارروائی کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں نیہا نے عدالت میں پیش ہونے کےبعد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور اس میں بالکل دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ وہ کسی بھی بانڈ پر دستخط نہیں کریںگی۔ یہ تو ایک طرح سے ملک میں جمہوری اور پرامن احتجاج کو روکنے لئے استعمال کیا جانا والا بانڈ ہے جس کی ہم کھل کر مخالفت کریں گے۔
نیہا نے بتایا کہ انہوں نےاس نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف امن میںخلل ڈالنے کے الزامات کی بنیاد بننے والی دستاویزات پیش نہیں کی گئیں اور نہ ہی متعلقہ رپورٹ (کارروائی کی رپورٹ) انہیں فراہم کی گئی،جس کے باعث انہیں انکوائری کی بنیاد بتائے بغیر عدالت میںطلب کیا گیا تھا۔ اسی پر دہلی ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ دستاویز فراہم کریں۔ نیہا نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کے اصل قانونی پہلوؤں پر فیصلہ نہیں دیا ہے،صرف و جہ بتاؤ نوٹس کو برقرار رکھا لیکن اس میں بھی کئی اہم شرائط نافذ کردی ہیں۔ نیہا نے کہا کہ وہ ایسے کسی امن بانڈ پر دستخط نہیں کریںگی جسے ان کے بقول اختلاف رائے کو دبانے کےلئےاستعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کی کارروائی جمہوریت اور عوام کے حقوق کے خلاف استعمال ہونے والا ایک حربہ ہے جسے ہم نہیں مانتے۔ نیہا بورا نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں عام لوگ جمہوریت کو۲؍ اہم حقوق کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ان میں پہلا ووٹ دینے کا حق ہے اور دوسرا اپنے حقوق پر حملہ ہونے کی صورت میں اس کیخلاف آواز اٹھانے کا حق۔نیہا بورا نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے بجائے ہم نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال ہوتے دیکھا۔اس پورے عمل کے دوران صحافیوں کو بھی پولیس اور دیگر سیکوریٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جس تشدد کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بارے میں آپ لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔نیہا نے اس دوران الزام لگایا کہ مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچنے پر وہاں پہلے سے موجود ہجوم نے انہیں دھمکانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی دھمکی سے نہیں ڈرتیں۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔ آئیسا کے جاری کردہ بیان کے مطابق ہجوم نے پولیس اسٹیشن کے داخلی راستے پر جمع ہوکر نیہا کے خلاف نعرے لگائے اور دھمکیاں دیں۔ آئیسا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ایک گھنٹے بعد دہلی پولیس نے نیہا کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ عدالت میں پہنچایا۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ نیہا بورا تمام قانونی کارروائیوں میں تعاون کریں گی لیکن احتجاج کے حق اور جواب دہی کے مطالبے کو متاثر کرنے والے کسی بھی بانڈ پر دستخط نہیں کریں گی۔
نیہابورا نے اور کیا کہا؟
نیہا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ووٹ دینے کے حق پر اتنا بڑا حملہ ہو رہا ہے،تو اس کے خلاف سڑکوں پر اترنا صرف ذمہ داری نہیں بلکہ شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض بھی ہے۔نیہا نے یہ بھی کہا کہ جب جمہوریت میں عام لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھینا گیا تو ہماراسڑکوں پر اترنا بالکل جائز ہے۔