اپرناسین ۲۵؍اکتوبر ۱۹۴۵ءکواس وقت کے کلکتہ، موجودہ کولکاتا، میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدچدانند داس گپتا معروف فلم نقاد، مصنف اور فلم ساز تھے، جبکہ ان کی والدہ سپریا داس گپتا ملبوسات کی ڈیزائنر تھیں۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 11:16 AM IST | Mumbai
اپرناسین ۲۵؍اکتوبر ۱۹۴۵ءکواس وقت کے کلکتہ، موجودہ کولکاتا، میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدچدانند داس گپتا معروف فلم نقاد، مصنف اور فلم ساز تھے، جبکہ ان کی والدہ سپریا داس گپتا ملبوسات کی ڈیزائنر تھیں۔
ہندوستانی سنیما میں کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جو صرف اداکاری کے ذریعے شہرت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور موضوعات کے انتخاب سے فلموں کو ایک نئی معنویت بھی عطا کرتے ہیں۔ بنگالی سنیما کی معروف اداکارہ، ہدایت کارہ اور اسکرین پلے رائٹر اپرنا سین کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے فلمی سفر کاآغاز اداکاری سے کیا، لیکن بعد میں ہدایت کاری کے میدان میں ایسی شناخت قائم کی کہ ان کا نام ہندوستانی متبادل سنیما کی اہم ترین خواتین فلم سازوں میں لیا جانے لگا۔
اپرناسین ۲۵؍اکتوبر ۱۹۴۵ءکواس وقت کے کلکتہ، موجودہ کولکاتا، میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدچدانند داس گپتا معروف فلم نقاد، مصنف اور فلم ساز تھے، جبکہ ان کی والدہ سپریا داس گپتا ملبوسات کی ڈیزائنر تھیں۔ اس طرح انہیں بچپن ہی سے ادب، فن اور سنیما سے وابستہ ماحول میسر آیا۔ اپرناسین نے۱۹۶۱ءمیں معروف فلم ساز ستیہ جیت رے کی فلم ’تین کنیا‘ سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ فلم رابندر ناتھ ٹیگور کی کہانیوں پرمبنی تھی اور اس کے ایک حصے ’سمپتی‘ میں اپرنا سین نے اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ کم عمر تھیں، لیکن اس تجربے نے ان کے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ ابتدائی فلم کے بعد انہوں نے بنگالی سنیما میں اپنی جگہ بنائی اور مختلف ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا۔ مرنال سین کی ’آکاش کُسُم‘، تپن سنہاکی ’ایکونی‘ اور ستیہ جیت رے کی ’جن اَرَنیا‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری نے ان کے تجربے کو مزید وسعت دی۔ انہوں نے صرف ایک ہی قسم کے کرداروں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مختلف سماجی پس منظر اور نفسیاتی کیفیتوں سے تعلق رکھنے والے کردار ادا کیے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے آخری برسوں اور۱۹۷۰ءکی دہائی میں اپرنا سین بنگالی سنیما کی نمایاں اداکاراؤں میں شمار ہونےلگیں۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، ذہانت اور فطری اداکاری کا امتزاج تھا، جس نےانہیں محض خوبصورت چہرے کے بجائے ایک باصلاحیت فن کارہ کی شناخت عطا کی۔
یہ بھی پڑھئے: کریتی سینن کا میڈاک فلمز کے ساتھ دوبارہ اشتراک، بڑے پیمانے کی ہارر فلم کی اطلاعات
اپرنا سین نے تقریباً ۲؍دہائیوں تک اداکاری کے میدان میں کام کرنےکے بعد۱۹۸۱ءمیں ہدایت کاری کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی فلم ’۳۶؍چورنگی لین‘تھی، جس نے انہیں ایک سنجیدہ اور منفرد فلم ساز کے طور پر متعارف کرایا۔ ۱۹۸۵ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’پروما‘اپرنا سین کی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اپرناسین کی سب سے زیادہ زیر بحث اور بین الاقوامی سطح پر سراہی جانے والی فلموں میں ’مسٹر اینڈ مسز ایئر‘کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ ۲۰۰۲ءمیں ریلیز ہونے والی اس فلم میں کونکنا سین شرما اور راہل بوس نے مرکزی کردار ادا کیے۔ ۲۰۰۵ءمیں اپرنا سین نے ’۱۵؍پارک ایونیو‘ بنائی، جس میں ذہنی صحت، خاندانی رشتوں اور حقیقت و تصور کے درمیان فرق جیسے پیچیدہ موضوعات کو پیش کیا گیا۔ اس فلم میں کونکنا سین شرما اور شبانہ اعظمی نے اہم کردار ادا کیے۔ اپرنا سین کو ہندوستانی سنیما میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ۱۹۸۷ءمیں پدم شری سے نوازا گیا۔ انہیں مختلف فلموں کے لیے قومی فلم ایوارڈز اور بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی اعزازات ملے۔ ’۳۶؍چورنگی لین‘ اور ’مسٹر اینڈ مسز ایئر‘ ان کے ان کاموں میں شامل ہیں جنہوں نے انہیں عالمی سطح پر پہچان دلائی۔
وہ مختلف بین الاقوامی فلمی میلوں کی جیوری میں بھی شامل رہ چکی ہیں۔ ان کی فلموں کو لندن، میونخ اور دیگر مقامات پر خصوصی نمائشوں اور سابقہ فلمی جائزوں کے ذریعے پیش کیا گیا، جو ان کے کام کی بین الاقوامی اہمیت کا ثبوت ہے۔