میونسپل وارڈوں کی تشکیل نوکافیصلہ ردکئے جانے سےعوام میں ناراضگی

Updated: August 06, 2022, 8:44 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

تھانے:بدھ ۳؍ اگست کو ریاست کی ۲؍ رکنی کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ریاست کی میونسپل کارپوریشنوں میں وارڈوں کی تشکیل میں ترمیم کرتے ہوئے اضافی وارڈوں کے فیصلے کورد کردیا

With the decision of the government, the painstaking work of demarcation of municipal wards has become futile.
حکومت کے فیصلے سے میونسپل وارڈوں کی نئی حدبندی کا بڑی محنت سے کیا گیا کام بے کارہوگیا ہے۔

 کو دشواری کا سامنا کرنا پڑیگا
 ممبرا، تھانے:بدھ ۳؍ اگست کو ریاست کی ۲؍ رکنی کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ریاست کی میونسپل کارپوریشنوں میں وارڈوں کی تشکیل میں ترمیم کرتے ہوئے اضافی وارڈوں کے فیصلے کورد کردیا  اور ۲۰۱۷ء کی طرز پر میونسپل انتخابات منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ۔اس کا اثر تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی ) پر بھی ہوگا کیونکہ یہاں ۱۱؍ نئے وارڈوں کی تشکیل کے بعد کل ۱۴۲؍ میونسپل وارڈوں پر ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے ساتھ ساتھ لیڈیز سیٹوں کے  ریزرویشن کیلئے قرعہ اندازی کی جاچکی ہے۔    ۲۰۱۷ء کے وارڈوں کی ترتیب کے مطابق الیکشن کے فیصلے سے اب تک  اس تعلق سے کی گئی سبھی کارروائیاں بےکارہو جائیں گی۔ اس تعلق سے انقلاب نے ممبرا، کوسہ اور تھانے کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے رابطہ کرکے ریاستی حکومت کے نئے فیصلہ کے تعلق سے ان کی رائے معلوم کی تو زیادہ تر نے یہی کہا کہ نئی حکومت  کا یہ فیصلہ عوام کے حق میں نہیں ہے اور دعویٰ کیا کہ جلد از جلد میونسپل انتخابات کرائے جانے چاہئے لیکن نئی حکومت کوڈر ہے کہ اسے عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے اسی لئے اپنے مفاد کیلئے اس نے  یہ فیصلہ کیا ہے جس سے شہریوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’میونسپل انتخابات ملتوی ہونے سے پریشانی ہوگی‘‘
  اس بارے میں  ٹی ایم سی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور این سی پی کے یوتھ لیڈر  اشرف( شانو) پٹھان سے استفسار کرنے پرانہوں نے کہا کہ ’’آج لوگ بنیادی  سہولتیں نہ ملنے سے پریشان ہیں ۔یہ سہولتیں شہری انتظامیہ  مہیا کراتا ہے۔ شہریوں کو کوئی پریشانی ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے مقامی کارپوریٹر کے پاس  جاتے ہیں۔ آج  کارپوریٹر وں کی میعاد ختم ہوئے ایک سال  ہوچکا ہے۔نئی حکومت سابقہ حکومت کے فیصلہ کو جلدازجلد عمل میں لانے کے بجائے آپسی رنجش کے سبب پرانے فیصلوں کو رد کرنے میں لگی ہوئی ہے جس سے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہورہاہے ۔حالانکہ سابقہ کابینہ  کے فیصلہ کا احترام کیاجانا چاہئے کیونکہ موجودہ وزیر اعلیٰ  خود گزشتہ کابینہ کا حصہ رہے ہیں، اس کے باوجود سابقہ فیصلوں کو ردکیا جارہا ہے۔ یہ محض بی جے پی کے اعتراض کرنے پر کیا گیا ہے جو فیصلہ افسوسناک ہے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’لوگ بے صبری سے میونسپل انتخابات کا انتظار کر رہے ہیں لیکن نئی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘‘ یہ پوچھنے پر کہ اس فیصلہ سے کسے فائدہ ہو سکتا ہے ؟ تواشرف پٹھان نے کہا کہ’’فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ کسے اکثریت مل سکتی ہے کیونکہ شیو سینا میں بغاوت  کے بعد  سے لوگ ناراض ہیں۔ اب تک جو شیوسینا ٹی ایم سی میں اکثریت اور اقتدار میں تھی،  اس کے دو حصے ہو گئے ہیں اور انتخابی نشان کسے ملے گا، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مہاراشٹر جو سیاسی حالات  ہیں  ،اس سے قبل ایسے حالات کبھی پیش نہیں آئے تھے  اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہکونسی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔‘‘
’’سیاستداں شہریوں کو نظر انداز کررہے ہیں‘‘
 اس ضمن میں عام آدمی پارٹی (آپ)کےمہاراشٹر  اسٹیٹ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممبرا کے نگراں لیڈر ڈاکٹر ابوالتمش فیضی  سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہاکہ’’ جس ایکناتھ شندے کی حکومت نے یہ فیصلہ کیاہے، اس کی آئینی حیثیت پر ابھی سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔اس طرح کے فیصلے  سے کارپوریشن الیکشن کے انعقاد میں تاخیر ہوگی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ اصولاً تو آبادی بڑھنے پر وارڈ بڑھائے جاتے ہیں اور آبادی گھٹنے پر کم کئے جاتے ہیں ۔ چونکہ ممبئی سے لوگ مضافاتی علاقو ں میں منتقل ہو رہے ہیں اس اعتبار سے جہاں کی آبادی بڑھ رہی ہے وہاں وارڈ بڑھنے چاہئے۔ اس طرح اگر  ریاست کی کل آبادی تقریباً سوا ۱۲؍ کروڑ ہے تو ۴؍ لاکھ کی آبادی پر  اسمبلی کی ایک سیٹ ہونی چاہئے، یہ آئین میں لکھا ہے اور ممبرا میں ۴؍ لاکھ سے زیادہ کی آبادی ہے،اس کے باوجود یہاں اسمبلی سیٹ نہیں دی جارہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ سیاستداں اپنے فائدے کے مطابق میونسپل کارپوریشن اور اسمبلی کی سیٹوں میں کمی  بیشی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس سے عوام کو یقینی طو رپر پریشانی ہوتی ہے۔‘‘
’’عوام کی ناراضگی کے سبب میونسپل الیکشن ملتوی کیا جارہا ہے‘‘
 اس سلسلے میں کانگریس کے اقلیتی شعبے کے کوکن زون کے سابق چیئرمین اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری انیس قریشی ( جن کا تعلق تھانے رابوڑی سے ہے) نے کہا کہ’’ ایسے حالات  میں جب سیلابی صورتحال   سے کسان اور عام شہری پریشان ہیں ، ان لوگوں نے ای ڈی اور دیگر ایجنسیوں کا ڈر دکھا کر سرکار گرا دی ،   اس سے لوگ نئی حکومت سے ناراض ہیںجس کا اندازہ انہیں بھی ہیں  اسی لئےگھبرا کر مختلف بہانوں سے میونسپل کارپوریشن الیکشن ملتوی کرایا جارہا ہے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ عوام انہیں مسترد کردیں گے۔‘‘
’’کابینہ کے فیصلہ کا مذاق بنا دیاگیا ہے‘‘ 
 اس ضمن میں مجلس اتحاد المسلمین (  ایم آئی ایم ) ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے صدر سیف پٹھان نے کہا کہ ’’نئے وارڈوں کی تشکیل کو منسوخ کرنے کے فیصلہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کابینہ کے فیصلوں کا مذاق بنادیا گیا ہے۔ کابینہ میں فیصلہ کیا جاتا ہےکہ آبادی میں اضافہ کے حساب سے وارڈ بڑھائے جائے  پھر فیصلہ کیا گیا ٹی ایم سی میں ۴؍ کے بجائے  ۳؍  وارڈوں کا پینل ہوگا، اس کے بعد ان وارڈوں پر ریزرویشن کیلئے قرعہ اندازی بھی کی جاتی ہے اور اب یہ فیصلہ کیاجارہا ہے  کہ۲۰۱۷ء کے میونسپل وارڈوں کے مطابق ہی انتخابات ہوں گے ۔ گویا نئے وارڈ کی تشکیل  اور قرعہ اندازی کیلئے شہری خزانہ کا جواستعمال ہوا ، وہ ضائع ہو گیا۔اس کے علاوہ ان کاموں کے لئے افسران کا جو وقت ضائع ہوا، اس کا کیا؟ ۴ ؍ وارڈوں کے خلاف ہی ۳؍ وارڈوں کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اب دوبارہ ۴؍ وارڈوں پر مشتمل پینل کے تحت الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔یہ پوری طرح سے غلط فیصلہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ  اگر یہ حکومت گر جاتی ہے توکیا پھر فیصلہ بدلے گا؟ کوئی عوام کے مفاد میں نہیں سوچ رہا ہے ۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ ‘ایک وارڈ ایک کارپوریٹر‘ سسٹم تھانے سمیت پوری ریاست میں نافذ کردیا جائے ۔ اس سےفائدہ یہ ہوگا کہ عوام جسے پسند کریں گے ،اسے موقع دیں گے۔‘‘
’’ پرانے وارڈوںکے مطابق  چناؤ ہونا بہتر ہے‘‘
 سماجوادی پارٹی ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے صدر عادل خان اعظمی نے کہا کہ ’’ ٹی ایم سی کےوارڈوں تشکیل نو بہت ہی بے ترتیبی سے کی گئی تھی۔روڈ کے ایک جانب کے علاقے اور روڈ کی دوسری جانب کے علاقوں کو ملا کر ایک وارڈ بنایا گیا تھا اور علاقوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے منتشر ہو جائے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ’’ جہاں تک شہریوں کی دقتو ں کا معاملہ ہےتو میونسپل باڈی کو تحلیل نہ کرتے ہوئے اس کی  توسیع کردینی چاہئے تھی۔ بہر حال اب جتنی جلدی الیکشن ہو جائے، اتنا بہتر ہےتاکہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں مل سکے ۔‘‘
’’ ریزرویشن کیلئے دوبارہ قرعہ اندازی ہوگی‘‘
 اس ضمن میں  تھانے میونسپل کارپوریشن  کے الیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی میونسپل کمشنر (ڈ ی ایم سی) ماروتی کھوڈکے  سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے نمائندۂ  انقلاب کو بتایا کہ’’ کابینہ کے نئے فیصلہ کے بعد ٹی ایم سی  میں  بڑھائے گئے ۱۱؍ وارڈ کم ہو کر دوبارہ  ۱۳۱؍وارڈ ہو جائیں گے جیسا کہ ۲۰۱۷ء  کے میونسپل الیکشن میں تھے۔ ان وارڈوں پر درج فہرست جماعت اور قبائل( ایس سی اور ایس ٹی)کے ساتھ ساتھ او بی سی اور لیڈیز وارڈ کے ریزرویشن کیلئے دوبارہ قرعہ اندازی بھی کی جائے گی۔‘‘

thane Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK