عراقی پارلیمنٹ کی تحلیل اور قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ مسترد

Updated: August 16, 2022, 11:27 AM IST | Agency | Baghdad

عدالت نے اسے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر بتایا مگر ملک کی سیاسی صورتحال کو ناقابل قبول قراردیا ۔ انتخابات کے ۱۰؍ مہینے بعد بھی نئے صدر اوروزیر اعظم کے انتخاب نیز حکومت سازی میں ناکامی پر الصدر کی تنقید کو جائز کہا ۔ سیا سی بحران ختم ہونے کی امید نہیں

Muqtada al-Sadr .Picture:INN
عراق کے اہم سیاستداں مقتدیٰ الصدر۔ تصویر:آئی این این

عراقی عدالت نے مقتدیٰ الصدر کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ۔ اس کے مطابق ایوان تحلیل کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیںہے۔  واضح رہےکہ مقتدیٰ الصدر کے حامی گزشتہ ماہ سے مسلسل احتجاج کر رہےہیں۔  وہ  اپنے حریف اور ایرانی حمایت یافتہ سیاسی اتحاد کی مخالفت  میں عراقی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا  دے رہےہیں ۔سیاسی بحران میں تازہ ترین موڑ اس وقت آیا تھا جب مقتدیٰ الصدر نے عدلیہ پر زور دیا تھا کہ وہ رواں ہفتے کے آخر تک پارلیمنٹ کو تحلیل کرے تاکہ ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے ۔ اس کے جواب میں  عدلیہ نے کہا کہ سپریم جوڈیشیل کونسل پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی۔آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو ایک تہائی اراکین کی درخواست پر ایوان میں رائے شماری  کے دوران اکثریت کی تائید کی بنیاد پر تحلیل کیا جاسکتا ہےیا  صدر کی منظوری سے وزیر اعظم پارلیمنٹ کو تحلیل کر سکتے ہیں۔ واضح رہےکہ عراق ان دنوں سیاسی بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ انتخابات کے تقریباً۱۰؍ ماہ گز ر جانے کے بعد بھی کسی اتحاد کی حکومت نہیں بن سکی ہے۔مقتدیٰ الصد ر کے اتحاد نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ انہیں سب سے زیا دہ سیٹیں ملی تھیںلیکن  وہ حکومت سازی کیلئے مطلوبہ سیٹیں حاصل کرنے میں   ناکام ہوگئے تھے۔ ان کی جانب سے حکومت سازی کی کوشش بھی کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے  ایران نوازمحمد السودانی کونیا وزیر اعظم  بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس کے بعد ہی سے مقتدیٰ الصدر کے حامی احتجا ج کررہےہیں۔  سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ اس نے صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب میں ناکامی  کے ساتھ ساتھ آئینی مدت کےدوران نئی حکومت نہ تشکیل دے پانے سے متعلق  مقتدیٰ الصدر کی تنقید سے اتفاق کیا ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے مزید کہا کہ ایک ناقابل قبول صورتحال ہے جس کی اصلاح کرنی چاہئے۔مقتدیٰ صدر کے مخالف سیاسی اتحاد نے جمعہ کو بغداد میں دھرنا دیا جبکہ تقریباً دو ہفتے قبل ان کے حامیوں نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولا اور پارلیمنٹ کے اندر اور پھر اس کے باہر احتجاج کیا۔   ادھرمقتدیٰ الصدر  کے قریبی صالح محمد العراقی نے  سیاسی تعطل ختم کرنے کیلئے الصدر کے حامیوں سے بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی  ہے ، حالانکہ انہوں نے کوئی تاریخ نہیں بتائی ہے جس سے عراق میں فوری طور پر سیاسی بحران ختم ہونے کی امید ختم  ہوگئی ہے۔ 

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK