سپریم کورٹ کےحالیہ چندفیصلوں سےکپل سبل دِل برداشتہ،کہا: اب کوئی اُمیدنہیں رہ گئی

Updated: August 09, 2022, 10:33 AM IST | new Delhi

’شہری آزادی پر عدلیہ کا حملہ‘ کے موضوع پر ’عوامی ٹربیونل ‘ میں سینئر وکیل کے بیان پر ہنگامہ، دیگر شرکاء نے بھی عدالتی فیصلوں پر مایوسی کااظہار کیا

A view of the `People`s Tribunal` to be held in Delhi on Saturday. (Photo: Courtesy, The Wire)
د ہلی میں سنیچر کو منعقدہونےوالے’’پیپلز ٹربیونل‘ کا منظر۔(تصویر: بشکریہ، دی وائر)

 قومی راجدھانی   کے ’کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا‘ میں سنیچر کو ’شہری آزادی پر عدلیہ کا حملہ‘ کے عنوان سے منعقدہ  پروگرام میں سینئر وکیل کپل سبل کے اس بیان سے ہنگامہ مچ گیا ہے کہ ’’مجھے اب اس ادارہ سے کوئی امید نہیں رہ گئی ہے۔‘‘ ان کے اس بیان  کی شدید مذمت کرتے ہوئے آل انڈیابار اسوسی ایشن نے اسے توہین عدالت سے تعبیر کیا ہے  ۔  راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نےبھی سبل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’فیصلوں پر تنقید ہوسکتی ہے مگر ادارہ کو بدنام  نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘
 واضح رہے کہ   ذکیہ جعفری   کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ذریعہ عرضی گزار  ٹیسٹا سیتلواد اور دیگر کے خلاف کارروائی کی ہدایت اوراسی طرح  ۲۰۰۹ء میں چھتیس گڑھ  کے گومپد میں پولیس کے ہاتھو ں قتل    عام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والے سماجی کارکن ہمانشو کمار کے خلاف ہی کے حکم  کے پس منظر میں  منعقدہ اس پروگرام میں سابق ججوں  کے ایک پینل کے سامنے متاثرین   نے اپنی روداد سنائی۔ اس دوران کورٹ کے فیصلوں پر تشویش کااظہار کیا گیا۔ پیپلس ٹربیونل میں سماعت کرنے  والے پینل میں دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس  اور لاء کمیشن کے سابق چیئر مین جسٹس اے پی شاہ، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش، بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج مارلے پلّے،  پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید اور دیگر شامل تھے۔
 خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق  اس دوران تقریر کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ ’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ سے آپ کو راحت مل جائےگی تو آپ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار  ہیں۔ ‘‘ انہوں  نے کہا کہ ’’اور میں یہ بات سپریم کورٹ ۵۰؍ سال تک پریکٹس کرنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ آپ لوگ سپریم کورٹ کے ترقی پسند فیصلوں کی بات کرتے ہیں مگر زمینی سطح پر جو ہورہا ہے وہ بہت  مختلف ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ نے پرائیویسی  کے حق میں فیصلہ سنایا مگر ای ڈی آپ کے گھر میں گھس رہی ہے، پرائیویسی کہاں رہ گئی؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK