Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیونار مذبح میں ڈاکٹروں کی محض ایک ماہ کی توسیع

Updated: August 05, 2025, 11:16 PM IST | Mumbai

قریش برادری نےمذاق قرار دیا ۔۹؍ڈاکٹروں کے ناموں کی فہرست جاری کی گئی ۔دیونار مذبح کے جنرل منیجرنے بھی مسئلے کا اعتراف کیا اوربتایا کہ نئے ڈاکٹروں کی تقرری میں۸؍ماہ لگ جاتے ہیں۔ڈاکٹروں کےچیک اپ کے بغیرجانور کا ذبیحہ نہیںکیا جاسکتا

Deonar Slaughterhouse, where traders are facing difficulties due to the problem of doctors. (File photo)
دیونارسلاٹرہاؤس جہاں ڈاکٹروںکے مسئلے کے سبب تاجروں کو دشواریاں پیش آرہی ہیں۔(فائل فوٹو)

دیونار مذبح کیلئے ڈاکٹروں کی محض ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے جسے قریش برادری نےمذاق قرار دیا۔ جانوروں کے شعبے ڈپٹی کمشنر ڈی پی ڈی کامبلے کی دستخط سے ۹؍ڈاکٹروں کے ناموں کی فہرست جاری کی گئی ہے، یہ ڈاکٹرس   ۳۱؍ اگست تک اپنی خدمات انجا م دیں گے۔ ان ڈاکٹرس میںڈاکٹر دیپالی سلیل ہانڈے، ڈاکٹر سبھاش ایکناتھ دلوی، ڈاکٹر پراجکتا ولاس ویدھ، ڈاکٹر ہرشل گروناتھ بھوئیر، ڈاکٹر پریہ درشنی بابو راؤ ڈوبل، ڈاکٹرپرساد نندکشور گھولپ، ڈاکٹر مرنمئی یوگیش شیٹے،  ڈاکٹر اشونی آپسنگھ پوار اور ڈاکٹر سومناتھ رام چندر ننورے شامل ہیں۔
 یادر ہے کہ ابھی کچھ ہی دن قبل ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کےسبب دیونارسلاٹر ہاؤس  میں زبردست مسئلہ پیدا ہوگیا تھا جسے ایوان اسمبلی میں بھی اٹھایا گیاتھا ۔ اس پرحکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ا س مسئلے کوفوری طو رپر حل کیا جائے گا ۔ پہلے ۶؍ماہ کی توسیع کا اعلان کیا گیا ۔ اس پرتاجروں کے ساتھ دیونار مذبح انتظامیہ نے بھی راحت محسوس کی کہ کم از کم ۶؍ماہ کیلئے تومسئلہ حل ہوگیا مگر حیرت کی بات یہ ہےکہ ۹؍ ڈاکٹرس کی مدتِ کار میںمحض ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے یعنی ۳۱؍اگست  کے بعدپھر وہی مسئلہ پیش آئے گا۔
 یہ ڈاکٹرس دیونار مذبح لائے جانے والے جانوروں کا چیک اپ کرنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں کہ اس جانور کا گوشت قابل استعمال ہے، بغیر ان کی جانچ کے کوئی بڑا جانور دیونار  مذبح کے اندر نہیں لایا جاسکتا ہے۔ اتنے اہم کام کے باوجود حکومت اوربی ایم سی کا اس تعلق سے انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس لئے قریش برادری کی جانب سے سخت ناراضگی ا ور۳۱؍ اگست تک توسیع کو مذاق قرار دیا جارہا ہے ۔
’’ حکومت اوربی ایم سی کی ایسا رویہ کیوں ؟‘‘
 قریش برادری سے تعلق رکھنے والے گوشت کے تاجروں کی تنظیم کے رکن گلریزقریشی نے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’ حکومت کا رویہ افسوسناک ہے، اتنے اہم مسئلے پرتوجہ دلانے کےباوجود حکومت کی جانب سےڈاکٹروں کی محض ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ کیا اسی طرح سے دیونار مذبح کا نظام چلایا جائے گا ۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ ’’چند دن کے اندر اس تعلق سے جوائنٹ میٹنگ بلائی جائے گی تاکہ یہ مسئلہ حل ہوسکے ۔اس لئے اگر ۳۱؍اگست سے قبل تیاری نہ کی گئی توپھر اسی طرح کے مسائل پیدا ہوں گے جیسا کہ کچھ دن قبل ہوچکے ہیں اور ذبیحے میں بھی دشواری پیدا ہوسکتی ہے ۔‘‘ ایک اور تاجر عبداللہ قریشی نے بتایاکہ’’ ڈاکٹرس کاکام انتہائی اہم ہوتا ہے ۔ایک طرح سے وہ گوشت استعمال کرنے والوں کی صحت کے تعلق سے سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں ، اس کےباوجود حکومت کی لاپروائی افسوسناک ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کومستقل طور پر حل کیا جائے۔‘‘ 
 ممبئی سبربن بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کے ذمہ دار محمدعلی قریشی نے بتایاکہ’’ اس تعلق سےسابق ریاستی وزیرنواب ملک اوران کی بیٹی رکن اسمبلی  ثناء ملک کے ہمراہ ہم لوگوںنے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سے بھی ملاقات کی تھی اور انہوں نے مثبت یقین دہانی کروائی تھی۔‘‘
دیونار مذبح کے جنرل منیجر  نے اسےبڑا مسئلہ بتایا 
 دیونار مذبح کے جنرل منیجرکلیم پاشا پٹھان نے بھی مسئلے کااعتراف کیاہے ۔انہوں نے بتایا کہ نئے ڈاکٹروں کی تقرری میں۸؍ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ کئی مراحل طے کرنے کے بعد نئے ڈاکٹروں کی تقرری کی جاتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ڈاکٹروں کےچیک اپ کے بغیرجانور کا ذبیحہ نہیںکیا جاسکتا۔ اس لئےاس مسئلے کوفوری طورپرحل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ ابھی ایک ماہ تک کےلئے ڈاکٹرو ں کی میعاد بڑھانے سے مسئلہ حل تو ہوگیا ہےمگریہ وقتی حل ہے جبکہ ذبیحے کا کام مستقل اورروزانہ کا ہے۔ اسے نہ توروکا جاسکتا ہے اورنہ ہی اس میں کسی قسم کی تاخیر کی جاسکتی ہے۔‘‘  انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ ابھی طریقہ یہ ہے کہ ان ڈاکٹروں کوریاستی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے ،کام وہ بی ایم سی کا کرتے ہیں۔ اس لئے اگرایسا نظم ہوجائے کہ بی ایم سی ہی تقرری بھی کرے تو شاید مزیدتیزی اور آسانی سے یہ کام پورا کیا جاسکے۔ ہماری کوشش ابھی سے یہ ہےکہ دیونار میں ذبیجے کا کوئی مسئلہ نہ پیدا ہونے پائے اور ۳۱؍اگست سے قبل کوئی بہترحل نکل آئے۔‘‘ 

deonar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK