دونوں لیڈروں کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، تائیوان اور امریکہ-چین تعلقات پر گفتگو ہوگی۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 1:30 PM IST | Agency | Washington
دونوں لیڈروں کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، تائیوان اور امریکہ-چین تعلقات پر گفتگو ہوگی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن میں تین روزہ اعلیٰ سطحی سرکاری دورے کیلئے خیرمقدم کرنے والے ہیں۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے لیڈروں کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، تائیوان اور امریکہ-چین تعلقات پر گفتگو ہو گی۔شی جن پنگ امریکی وقت کے مطابق بدھ کو جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچیں گے جہاں توقع ہے کہ صدر ٹرمپ خود طیارے کے قریب ان کا استقبال کریں گے۔۲۳؍ سے۲۵؍ ستمبر تک جاری رہنے والے اس دورے کی دعوت ٹرمپ نے دی ہے۔ جمعرات کو وہائٹ ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب ہوگی جس میں فوجی طیاروں کی پرواز اور فوجی دستوں کا معائنہ شامل ہوگا جس کے بعد سرکاری عشائیہ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:سری لنکا: ایسٹر بم دھماکوں کے مقدمے میں ۱۵؍ مجرموں کو ۲۶۰؍ سال تک قید کی سزا
تقریباً ایک دہائی میں شی جن پنگ کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے اور ٹرمپ کے دوسری مدت کے لئے صدر بننے کے بعد دونوںلیڈروں کی یہ تیسری بالمشافہ ملاقات ہوگی۔
یہ اہم دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اکتوبر۲۰۲۵ء میں امریکہ اور چین کے درمیان طے پانے والی تجارتی جنگ بندی نومبر میں ختم ہونے والی ہے۔ معاہدے کے تحت واشنگٹن نے چینی اشیا ءپر مجوزہ اضافی ٹیرف میں اضافہ معطل کر دیا تھا جبکہ بیجنگ نے نایاب ارضیاتی عناصر اور عالمی صنعت کے لئے اہم دیگر مواد کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی۔امریکی اور چینی حکام نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تجارتی امور پر بات چیت کی جس میں غیر ٹیرف تجارتی مسائل اور زرعی برآمدات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی لیکن شی جن پنگ کی آمد کے بعد واشنگٹن میں مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔