سری لنکا کی ہائی کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے مقدمے میں ۱۵؍ افراد کو ۲۰۰؍ سے ۲۶۰؍ سال تک قید کی سزائیں سنادی ہیں۔ حملوں میں ۲۷۹؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 6:03 PM IST | Colombo
سری لنکا کی ہائی کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے مقدمے میں ۱۵؍ افراد کو ۲۰۰؍ سے ۲۶۰؍ سال تک قید کی سزائیں سنادی ہیں۔ حملوں میں ۲۷۹؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
سری لنکا کی ہائی کورٹ نے منگل کو پانچ سال سے جاری مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں ۱۵؍ افراد کو طویل مدتی قید کی سزائیں سنائیں۔ ۲۱؍ اپریل ۲۰۱۹ء کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں میں ۲۷۹؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق حملوں میں ہلاک ہونے والے ۴۲؍ غیر ملکی شہریوں میں ۸؍ برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ مربوط حملوں میں ملک بھر کے تین گرجا گھروں، جن میں دو کیتھولک اور ایک پروٹسٹنٹ چرچ تھا، اور تین ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کیتھولک چرچ نے ۱۵؍ ملزمان کو سزا سنائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کیتھولک پادری جوڈ فرنینڈو نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آخرکار ہمیں انصاف مل گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس مقام تک پہنچنے میں بہت طویل وقت لگا۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا نے جعلی ملازمت کی پیشکش کے ذریعے دنیا بھر میں ہزاروں آلات متاثر کیے
منگل کو تین ججوں پر مشتمل بنچ نے ۱۴؍ ملزمان کو قتل، دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد رکھنے سمیت تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا، جبکہ ۱۵؍ ویں ملزم کو بعض الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ استغاثہ کی جانب سے خودکش حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا محمد ابراہیم محمد نوفَر بھی ان ۱۵؍ افراد میں شامل ہے جنہیں کولمبو کی مستقل ہائی کورٹ ٹرائل ایٹ بار نے ۲۰۰؍ سے ۲۶۰؍ سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔ عدالت نے مزید ۹؍ ملزمان کو بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت میں بری ہونے والے ملزمان نے جذباتی انداز میں دیگر افراد کو گلے لگایا، جبکہ انہیں سزا پانے والے ملزمان سے الگ کر دیا گیا۔ بعد ازاں مجرم قرار دیے گئے افراد کو کم سزا دینے کی درخواست پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کی جائیدادیں اور دیگر اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ سزا پانے والے تمام افراد سری لنکا کی اقلیتی مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آج سعودی نیشنل ڈے پر ایئر شو، بحری نمائش اور فوجی پریڈ کا اہتمام
دھماکوں کیلئے سری لنکا میں سرگرم دو اسلامی شدت پسند گروہوں پر الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم ان حملوں میں براہِ راست ملوث سمجھے جانے والے افراد میں سے کوئی بھی اب زندہ نہیں ہے۔ ۲۰۲۱ء میں حکام نے ۲۵؍ مشتبہ افراد کے خلاف ۲۳؍ ہزار ۲۷۰؍ الزامات عائد کیے تھے۔ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی یا انہیں تحریک دینے کا الزام تھا۔ الزامات میں قتل، دہشت گردی کی سازش اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اسلحہ اور دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم شامل تھے۔ عدالت میں ملزمان کارروائی کے وقفوں کے دوران ایک دوسرے سے بات چیت اور ہنسی مذاق کرتے دکھائی دیے۔ طویل عدالتی فیصلہ پڑھنے کے دوران انہوں نے نماز کیلئے وقفے کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا۔
۲۴۰؍ سال قید بامشقت کی سزا پانے والے محمد ابراہیم صدیق عبداللہ نے کہا، ’’میں نے کیا کیا یا نہیں کیا، یہ صرف اللہ اور میں جانتے ہیں۔ آخرکار تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ ہر شخص کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ عدالت نے حملوں میں سازش اور معاونت میں ان کے کردار کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو ۲۰۰؍ سال، پانچ کو ۲۲۰؍ سال، چار کو ۲۴۰؍ سال اور ایک ملزم کو ۲۶۰؍ سال قید کی سزا سنائی۔ حملے میں زندہ بچ جانے والی تریسا فرنینڈو بھی منگل کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو وہ تکلیف نہیں سہنی چاہیے جس سے وہ گزری ہیں۔ ججوں کی جانب سے سزائیں سنائے جانے سے قبل انہوں نے اے ایف پی سے کہا، ’’ہم آج اس حملے کے متاثرین کی حیثیت سے انصاف حاصل کرنے آئے ہیں۔ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی، ہم سر جھکا کر اسے قبول کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر اعظم کا ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام
واضح ہو کہ یہ فیصلہ سابق انٹیلی جنس سربراہ سریش سلے کے خلاف جاری ایک الگ تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے۔ ان پر یہ الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ سری لنکا کی ریاست کے بعض افراد کے حملوں کے ذمہ داروں سے روابط ہو سکتے تھے۔ سلے کو فروری میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم جولائی میں سری لنکا کے ایک سابق پولیس سربراہ اور وزارتِ دفاع کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کو بھی ممکنہ حملوں سے متعلق غیر ملکی انٹیلی جنس انتباہات پر بروقت کارروائی نہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم سری لنکا میں ۱۹۷۶ء کے بعد سے کسی مجرم کو سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اس لیے عموماً ایسی سزائیں عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
ایک پارلیمانی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پولیس اور انٹیلی جنس حکام حملوں کے بارے میں موصول ہونے والے بار بار کے انتباہات پر کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ سری لنکا کی سپریم کورٹ نے ۲۰۲۳ء میں سابق صدر میتھری پالا سری سینا کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے متاثرین کو لاکھوں کی رقم بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق ناکامیوں نے حملوں کی راہ ہموار کی۔ سابق صدر گوٹابایا راجاپاکسا، جو حملوں کے چند ماہ بعد اقتدار میں منتخب ہوئے تھے، نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ حملوں کو راجاپاکسا خاندان کی مقبولیت بڑھانے کے لیے ہونے دیا گیا۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے تھے جب چینل ۴؍ کی ایک دستاویزی فلم میں ایک مخبر کی گواہی نشر کی گئی تھی۔ راجاپاکسا خاندان طویل عرصے سے قوم پرستانہ سیاست کے باعث سری لنکا کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔