امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کاردعمل ،کہا :عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی عوام تمہاری کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔ امریکی وزیرجنگ کا انتباہ :آج شدید ترین حملوں کا دن ہوگا
EPAPER
Updated: March 10, 2026, 11:59 PM IST | Tehran
امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کاردعمل ،کہا :عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی عوام تمہاری کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔ امریکی وزیرجنگ کا انتباہ :آج شدید ترین حملوں کا دن ہوگا
امریکہ کے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہے، ایران اسکولوں اور اسپتالوں سے میزائل فائر کر رہا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی جنرل ڈین کین نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران تنہا کھڑا ہے اور بری طرح سے ہار رہا ہے، ہمارے اہداف یہ ہیں کہ میزائل اور دفاعی صنعتی مراکز کو تباہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کو تباہ کرنا بھی ہمارا مقصد ہے، آج شدید ترین حملوں کا دن ہوگا،۲۴؍گھنٹوں میں ایران نے کم تعداد میں میزائل فائر کئے ہیں۔
’’پہلے سے زیادہ شدید حملے کریںگے‘‘
امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران نے اپنے ہمسایوں پر حملہ کر کے بڑی غلطی کی ہے۔ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی تو ایران پر پہلے سے زیادہ شدید حملے کریں گے۔ امریکی جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوج بارودی سرنگیں بچھانے والے ایرانی جہازوں پر حملہ کر رہی ہے، پہلے ۱۰؍ روز میں ایرانی بحریہ کے۵۰؍ سے زیادہ جہازوں کو ڈبو دیا یا تباہ کر دیا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ایران لڑ رہا ہے لیکن اتنی طاقت سے نہیں جتنا ہم نے سوچا تھا، آبنائے ہُرمُز سے جہازوں کی حفاظت کا کام سونپے جانے کی صورت میں ممکنہ اقدامات پر غور جاری ہے۔
’’ایرانی عوام کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے‘‘
دریں اثناء امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہُرمُز بند کرنے پر ایران کو۲۰؍ گنا زیادہ طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکی پر ایران نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ ’’عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی عوام تمہاری کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تم سے زیادہ طاقتور لوگ بھی ایرانی عوام کو مٹانے میںناکام رہے لہٰذا خبردار رہو، کہیں ایسا نہ ہو، تمہارا ہی نام و نشان مٹ جائے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی یا اسرائیلی اڈوں پر مزید حملے کئے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اس اہم بحری راستے کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔
’’حملہ آور آتے جاتے رہے مگر ایران قائم رہا‘‘
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ۶؍ ہزار سال پرانی تہذیب کا وارث ہے۔ تاریخ کے نشیب و فراز کے باوجود کوئی طاقت اس نام کو مٹا نہیں سکی۔انھوں نے مزید کہا کہ جو کوئی ایران کو تباہ کرنے کا خواب دیکھتا ہے، وہ تاریخ سے ناواقف ہے۔ حملہ آور آتے اور جاتے رہے مگر ایران قائم رہا۔
’’ماضی میں بات چیت کا تجربہ بہت تلخ رہا ہے‘‘
اسی طرح ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران مکمل طور پر تیار ہے اور جب تک ضروری ہوا، اپنے میزائل حملے جاری رکھے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات فی الحال ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیونکہ ماضی میں بات چیت کا تجربہ بہت تلخ رہا ہے۔