ممدانی نے اس شام کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس تقریب کو خلیل کی حراست سے متعلق واقعات پر غور کرنے کا موقع قرار دیا۔ ممدانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ”محمود ایک نیویارکر ہیں اور ان کا تعلق نیویارک شہر سے ہے۔“
EPAPER
Updated: March 10, 2026, 10:03 PM IST | New York
ممدانی نے اس شام کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس تقریب کو خلیل کی حراست سے متعلق واقعات پر غور کرنے کا موقع قرار دیا۔ ممدانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ”محمود ایک نیویارکر ہیں اور ان کا تعلق نیویارک شہر سے ہے۔“
نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ ’گریسی مینشن‘ پر فلسطینی کارکن محمود خلیل اور ان کے اہل خانہ کی میزبانی کی۔ امریکی امیگریشن حکام کے ہاتھوں فلسطینی کارکن کی حراست کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی اس تقریب میں ممدانی اور ان کی اہلیہ راما دواجی نے محمود خلیل، ان کی اہلیہ نور اور ان کے نو ماہ کے بیٹے دین کا افطار پر استقبال کیا۔
For Mahmoud Khalil, this past year has been marked by profound hardship—and by profound courage.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) March 10, 2026
A year ago, Mahmoud was walking home through our city after sharing an iftar with his wife Noor when he was detained by federal agents, flown to Louisiana, and then held in an ICE… pic.twitter.com/6dBtLh0GeT
ممدانی نے اس شام کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس تقریب کو خلیل کی حراست سے متعلق واقعات پر غور کرنے کا ایک موقع قرار دیا۔ ممدانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ”محمود خلیل کے لئے، پچھلا سال گہری مشکلات اور گہری ہمت کا سال رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”کل رات، جب ہم نے ان کی حراست کی پہلی سالگرہ منائی، رما اور مجھے محمود، نور اور ان کے بیٹے دین کا گریسی مینشن میں استقبال کرنے اور ایک ساتھ روزہ کھولنے پر فخر محسوس ہوا۔“ آخر میں انہوں نے لکھا: ”محمود ایک نیویارکر ہیں اور ان کا تعلق نیویارک شہر سے ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ظہران ممدانی کی رہائش گاہ پر دیسی بم سے حملہ، ۶؍ گرفتار
واضح رہے کہ شام میں ایک فلسطینی خاندان میں پیدا ہونے والے خلیل امریکہ کے قانونی مستقل رہائشی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل امریکہ میں فلسطین حامی طلبہ کے مظاہروں کے دوران ایک نمایاں شخصیت بن کر ابھرے تھے۔ ۸ مارچ ۲۰۲۵ء کو اپنی اہلیہ کے ساتھ افطار کے بعد یونیورسٹی کیمپس کے قریب چہل قدمی کے دوران امریکی ایجنسی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ حکام نے بعد میں ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی کے دوران انہیں لوزیانا کے حراستی مرکز میں منتقل کر دیا تھا۔ کئی ہفتوں کی حراست کے بعد بالآخر ایک وفاقی عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
حراست کے دوران، خلیل اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے موقع پر موجود نہیں رہ سکے تھے۔ ممدانی نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حراست غزہ میں جنگ کے خلاف مظاہروں میں خلیل کی شرکت کے بعد عمل میں آئی تھی۔
اپنی گرفتاری کی سالگرہ پر خلیل نے تحریری بیان جاری کیا
اپنی گرفتاری کی سالگرہ پر خلیل نے ایک تحریری بیان میں ان تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آزادی دوبارہ حاصل کرلی ہے، لیکن حراست کی یادیں ان کے اور ان جیسے دیگر افراد کے ساتھ اب بھی وابستہ ہیں جو اب بھی ایسے ہی مراکز میں قید ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”میں حراستی مرکز (کی یادیں) اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔“ انہوں نے لوزیانا میں ہفتوں تک قید رہنے کے تجربے اور وہاں ملنے والے دیگر قیدیوں کا بھی تذکرہ کیا۔
اسرائیل حامی صارفین کی ممدانی پر تنقید
نیویارک میئر کی محمود خلیل سے ملاقات کو اسرائیل حامی مبصرین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین نے خلیل پر ان مظاہروں میں شرکت کا الزام لگایا جنہیں وہ یہودی طلبہ کے خلاف سمجھتے تھے اور میئر کے ذریعے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ان کی میزبانی پر سوال اٹھائے۔ دوسری جانب، ممدانی کے حامیوں نے اس ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے اسے امریکہ میں شہری آزادیوں اور سیاسی مظاہرین کے حقوق سے متعلق خدشات کو نمایاں کرنے والا اقدام قرار دیا۔