Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس نے لبنان بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا

Updated: March 10, 2026, 8:05 PM IST | Paris

فرانس نے لبنان بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، ساتھ ہی کشیدگی بڑھنے پر ۶؍ اعشاریہ ۹؍ ملین ڈالر کی امداد اور۲۰؍ ٹن سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

Lebanese displaced by Israeli bombing. Photo: X
اسرائیلی بمباری میں بے گھر ہوئے لبنانی۔ تصویر: ایکس

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے پیر کو کہا کہ فرانس نے لبنان کی بگڑتی صورتحالے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک بیان میں، باروٹ نے کہا کہ پیرس اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری سفارتی اور انسانی اقدامات کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’صورتحال کی اچانک بگاڑ کے پیش نظر، فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کی کشیدگی اور یوکرین کے بحران پر ٹرمپ اور پوتن کا تبادلہ خیال

بعد ازاں وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ فرانس نے لبنان میں کام کرنے والی انسانی تنظیموں کے لیے۶؍ ملین یورو (تقریباً  ۶؍ اعشاریہ ۹؍ ملین ڈالر) کی ہنگامی امداد مختص کر دی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پیرس۲۰؍ ٹن انسانی امداد بھی روانہ کر رہا ہے، جو منگل تک لبنان پہنچنے کی امید ہے۔مزید برآں فرانسیسی حکومت نے وزارت خارجہ کے بحران مرکز کے زیر انتظام بحرانی امدادی فنڈ کو ان کمپنیوں اور مقامی حکام کے عطیات کے لیے بھی کھول دیا ہے جو امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ تاہم باروٹ نے کہا کہ فرانس مزید کشیدگی روکنے کے لیے لبنانی اور اسرائیلی حکام دونوں سے رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم لبنان کو انتشار کی طرف جانے سے روکنے، جنگ بندی کو یقینی بنانے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے لبنانی اور اسرائیلی حکام سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

واضح رہے کہ نومبر۲۰۲۴ء میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، اسرائیل نے تقریباً روزانہ کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔پیر کو لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ۴۰۰؍سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے ساتھ سرحدی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت۱۲۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK